افسوسناک خبر!بھارتی اداکار دُنیا چھوڑ گئے

ممبئی (ویب ڈیسک) ملیالم فلم انڈسٹری میں ڈبنگ اداکار اور ٹی وی سیریز میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے پربیش شوٹنگ کے دوران حرکت قلب بند ہونے سے اسٹیج پر ہی گر گئے، انہیں اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔بھارتی میڈیا کے مطابق 44 سالہ پربیش یوٹیوب چینل کے لیے ایک

ڈرامہ بنارہے تھے جس میں ماحولیاتی آلودگی اور کچرے کو موضوع بنایا گیا تھا۔ ڈرامے کے اختتام پر گروپ فوٹو کے لیے تمام اسٹاف اسٹیج پر آیا تو اسی دوران پربیش گر گئے۔ساتھی اداکاروں نے ڈبنگ اسٹار کو اسپتال منقل کیا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اداکار کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ساتھی اداکاروں نے بتایا کہ پربیش ڈرامے کی تکمیل پر بہت خوش تھے اور اسٹیج پر گرنے سے قبل انہوں نے اسٹاف سے گلا بری طرح سوکھنے کی شکایت کرتے ہوئے ایک گلاس پانی طلب کیا تھا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کیساتھ ملی بھگت سے ادویات کے ریٹس میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد اینٹی فراڈ شیخوپورہ نے پرگورنمنٹ آفیسر حیدر علی کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ اس سکینڈل میں خاتون کمپیوٹر آپریٹر فرحت ایمان کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے جو اس سے باہم مشورہ ہوکر ہسپتال کو سپلائی ہونیوالی ادویات کے ریٹس کمپنیوں کیساتھ ملی بھگت کرکے لگواتے رہے ہیں جس سے سرکاری خزانہ کو کروڑوں ر وپے کا نقصان بتایا گیا ہے جبکہ ذرائع نے یہ بتایا کہ مذکورہ خاتون کمپیوٹر آپریٹر اپنے آفیسر کی آشیر بادسے لاہور سمیت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے ٹھیکیداروں کو چکر لگوا کر انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے بلیک میل کرتی اور یہاں تک کہ ذاتی نوعیت کے اخراجات اور کام بھی ٹھیکیداروں کے ذمہ لگائے جاتے ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون ڈیلی ویجز پر کام کرتی ہے مگر ایک ہی سیٹ پر کافی عرصہ سے کام کررہی ہے اور سیاسی واثر ورسوخ کی وجہ سے چند ماہ کیلئے اپنے ساتھ والے روم بجٹ اینڈ اکانٹ میں ڈیوٹی لگواکر پھر دوبارہ اسی سیٹ پر آجاتی ہے ذرائع نے بتایا کہ پرکورمنٹ آفیسر حیدر علی کیساتھ ساتھ مذکورہ خاتون کی بھی انکوائری کروائی جائے بتایا گیا ہے کہ مقامی ٹھیکیدار نے اس سلسلہ میں انٹی فراڈ شیخوپورہ پولیس کو آگاہ کیا جس نے اپنی تحقیقات کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے اوراس میں محکمہ کے بڑے افسران کے نام بھی آسکتے ہیں رابطہ کرنے پر کمپیوٹر آپریٹر فرحت ایمان نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ریٹس ضرور زیادہ تھے مگر اس معاملہ سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *