ریحام خان نے ایک بار دونوں کو کیا بات کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار سہیل وڑائچ بی بی سی کے لیے اپنے ایک خصوصی تبصرے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دونوں خان پٹھان، جہانگیر ترین پٹھان اور عمران نیازی پٹھان۔ گو دونوں نسلی طور پر پٹھان ضرور ہیں مگر ان کے خاندان صدیوں سے پنجاب میں آباد ہیں، سو دونوں ہی پنجابی پٹھان ہیں۔

دونوں کے والد سرکاری ملازم تھے سو دونوں کے بچپن تقریباً ایک ہی طرح گزرے ہونگے۔ ترین کے والد اللہ نواز ترین پولیس میں تھے اور عمران کے والد سرکاری محکمے میں سول انجینئر تھے۔ترین اور عمران دونوں کا پہلا کرئیر سیاست نہیں تھا، ترین بینکر اور عمران کرکٹر تھے۔ دونوں نے بعد میں سیاست کے کرئیرکا انتخاب کیا۔ دونوں نے زندگی کا آغاز مڈل کلاس شہری کی حیثیت سے کیا، پھر دونوں دولت کما کر اشرافیہ میں داخل ہوئے۔جہانگیر ترین صنعت کاری اور زمینداری سے امیر ہوئے جبکہ عمران خان نے صرف کرکٹ سے کمائی کی۔جہانگیر خان ترین کے کزن ہمایوں اختر خان اور ان کے برادر نسبتی مخدوم احمد محمود پہلے سے سیاست میں متحرک تھے۔ مخدوم احمد محمود جہانگیر ترین کو کھینچ کر سیاست میں لائے۔اسی طرح عمران خان کے کزن اور برادر نسبتی حفیظ اللہ نیازی اسلامی جمعیت طلبہ میں سر گرم تھے وہ عمران کو سیاست کے میدان میں کھینچ کر لانے والوں میں سر فہرست تھے۔مشترکات کی ایک لمبی فہرست کے بعد اب دونوں کے تضادات کی طرف چلتے ہیں۔ عمران خان نے کبھی بزنس نہیں کیا اور کرکٹ کے بعد سے پیسے کمانے کی بجائے فلاح انسانی کا فریضہ سنبھال لیا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ مادی دنیا کی بجائے روحانی دنیا سے جڑتے گئے۔دوسری طرف جہانگیر خان ترین مادی دنیا میں ایک سے دوسری منزل فتح کرتے گئے، ایک مل کے بعد دوسری اور صنعت کے بعد زراعت میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑتے گئے۔ سیاست میں ترین اور خان اکھٹے ہوئے تو یہ ایک خوفناک اور خطرناک ‘جوڑا‘ بن گئے۔

عمران خان اخلاقیات کا جھنڈا اٹھائے قیادت کرتے رہے اور جہانگیر خان عملیت پسندی پر عمل کرتے ہوئے انتخابی گھوڑوں پر ہاتھ ڈالتے گئے۔ عمران خان سٹیج پر کھڑے ہو کر سیاسی لتے لیتے اور جہانگیر ترین رات کے اندھیروں میں جا کر سیاسی مخالفوں کو توڑتے۔عمران خان ن لیگ کے خلاف عدالتوں میں مقدمات کرتے اور جہانگیر خان ترین ان مقدمات کے لیے فائلوں کا پیٹ بھرتے غرض یہ کہ اس خطرناک جوڑے نے مخالف سیاست کو تاراج کر دیا۔تحریک انصاف کی سیاسی، عدالتی اور قانونی فتح کا راستہ ان دونوں کی مشترکہ ٹیم سے ہی ممکن ہوا تھا۔ چینی سکینڈل کی رپورٹ کے بعد گذشتہ روز ایک انٹرویو میں جہانگیر خان ترین نے کہا کہ اب وہ اور عمران خان اتنے قریبی دوست نہیں رہے لیکن چند سال پہلے تک ان کی دوستی بہت گہری ہوتی تھی۔اس قدر گہری کہ عمران خان اپنے نجی معاملات پر بھی ترین سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ ریحام خان نے اپنی کتاب اور انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ عمران خان مجھ سے طلاق لینے پر ترین سے مشورہ کر رہے تھے کہ میں نے خود سن لیا اور دروازہ کھول کر انھیں بتا بھی دیا کہ میں آپ کی باتیں سن چکی ہوں بعد ازاں جہانگیر خان ترین نے بھی اعتراف کیا کہ یہ بات سچ تھی۔نجی معاملات کے ساتھ ساتھ سیاسی حوالے سے بھی جہانگیر خان ترین کا پارٹی اور بنی گالہ پر مکمل ‘ہولڈ‘ تھا۔ تحریک انصاف میں کس نے اوپر جانا ہے اور کون فارغ ہو گا، اس کا مکمل دارومدار جہانگیر خان ترین کی حکمت عملی پر ہوتا تھا۔الیکشن سے پہلے تک بنی گالہ عون چودھری، پنجاب علیم خان اور پختونخواہ پرویز خٹک کے مکمل قبضے میں تھے اور تینوں جہانگیر ترین کی مُٹھی میں تھے مگر پھر سب کچھ بدلنا شروع ہو گیا۔(بشکریہ : بی بی سی )

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *