حرکت قلب بند ہونے سے پاکستان کے نامور اداکار انتقال کر گئے، مداحوں کے لیے یقین کرنا مشکل

لاہور( نیوز ڈیسک ) معروف پیریڈی شوز میں وزیر اعظم عمران خان کی ڈمی کا کردار اداکرنے والے اداکارہ فرخ شاہ انتقال کر گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مشہور مزاحیہ ٹی وی شوز میں اگر بات ہو وزیر اعظم عمران خان کے کردار کی تو وہ پھر فرخ شاہ سے اچھا کوئی بھی نہیں نبھا سکتا، فرخ شاہ

اب اس دنیا میں نہیں رہے، فرخ شاہ حرکت قلب بند کر جانے کی وجہ سے انتقال کر گئے ہیں، پاکستان کی شوبز ناڈسٹری کی جانب سے اس صدمے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے، شوبز سے وابستہ شخصیات کا کہنا ہے کہ فرخ شاہ ایک نہایت ہی باکمال ، خوش گفتار ، خوش اخلاق انسان تھے جو کہ ہمیشہ اپنے سینئر ز کی عزت اور جونیئرز سے پیار سے ملا کرتا تھے ، بلاشبہ انکے اس خلاء کو کبھی بھی پورا نہیں کیا جاسکے گا۔ فرخ شاہ کی نمازِ جنازہ آج شام انکی رہائش گاہ پر ادا کی جائے گی۔ حکومت نےنیب قانون میں اپوزیشن کی 35 ترامیم ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ تجاویز مان لیں تو نیب کا قانون و احتساب کا عمل دفن ہو جائیگا،پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا ہدف بھی حاصل نہیں کر سکیں گے، اپوزیشن 35نکاتی مسودے پر نظرثانی کرے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی میں خطاب و میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن ایف اے ٹی ایف قوم کی ضرورت ہے، اپوزیشن اس پر نیب قانون کی تلوار نہ لٹکائے، ایف اے ٹی ایف پر قانون نہ بنا تو پاکستان بلیک لسٹ میں جا سکتا ہے، بھارت بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کسی نہ کسی طرح سے بلیک لسٹ ہو جائے اس لیے

اپوزیشن اپنے 35 نکاتی مسودے پر نظرثانی کرے۔ایف اے ٹی ایف اور نیب قوانین سمیت چار قوانین پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی، نیب قوانین سے متعلق اپوزیشن کے 35 نکاتی مسودے کی شق وار گفتگو کی اور ماہرین سے مشاورت کے بعد اپوزیشن کو بتایا کہ یہ قابل قبول نہیں، ایف اے ٹی ایف کی ترجیح انسدادمنی لانڈرنگ ہے لیکن اپوزیشن اسے حذف کرنا چاہتی ہے، ایف اے ٹی ایف قومی مفاد کا ایشو ہے، بھارت بھی پاکستان کو بلیک لسٹ پر دھکیلنا چاہتا ہے۔اپوزیشن سے کہا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر فوقیت نہ دے اور اس معاملے پر قانون سازی کیلئے حکومت کے ساتھ تعاون کرے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے اپنے دور حکومتوں کے دوران نیب قوانین میں ترامیم نہیں کیں اور اب وہ چاہتی ہیں کہ 10گھنٹے میں ترامیم ہوں ایسا نہیں ہو سکتا۔اپوزیشن چاہتی ہے کہ 5 سال سے پرانے کیسز کی تحقیقات نہ ہوں، ماضی میں ایسے بہت سے کیسز ہیں جو ابھی بھی زیر التواءہیں، حکومت نیب قوانین میں ترامیم کے حوالے سے اپوزیشن کی جائز تجاویز پر بات کرنے کیلئے تیار ہے۔حکومت بلاتفریق احتساب پر یقین رکھتی ہے اسلئے ایسا قانون بنانا چاہتے ہیں جو عوامی مفاد اور دیرپا ہو،سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا، امکانات کو رد نہیں کرنا چاہیے، ہم امید رکھتے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی اپوزیشن کا حق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے 35 نکات پر بھی نظرثانی کرے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.