ویکسین بن بھی گئی تو کب تک دستیاب ہو گی؟ڈبلیو ایچ او نے کورونا متاثرین کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا دے دیا

نیویارک(ویب ڈیسک) ایسے وقت میں جب یورپ بھر میں لاک ڈان میں نرمی کی جا رہی ہے تو کئی مقامات پر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کئی ممالک پہلے ہی پابندیاں دوبارہ نافذ کر چکے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے

کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ رواں ہفتے کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ممکنہ طور پر ایک کروڑ سے تجاوز کر جائے گی۔انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی یقین دہانی موجود نہیں کہ وائرس کے خلاف ویکسین تیار کر لی جائے گی، اور اگر ایسا ہوا بھی، تب بھی یہ اگلے سال سے قبل دستیاب نہیں ہوگی۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے یورپ نے کہا کہ کئی ماہ میں پہلی بار یورپ میں کووڈ 19 بہت نمایاں طور پر سر اٹھا رہا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سعودی عرب میں کورونا کے3ہزار938 نئے کیسز سامنے آگئے، مزید 46مریض جاں بحق، اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب میں کووڈ19 کے مزید3ہزار938نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مملکت میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 1لاکھ 74ہزار577 ہوگئی ہے۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک میں مزید 46اموات کے بعد کورونا سے اب تک ہونے والی اموات کی کل گنتی 1474تک پہنچ چکی ہے۔ملک میں مزید 2ہزار589 مزید مریض صحتیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 1لاکھ20ہزار471ہوگئی ہے۔ ملکت میں اب تک 14لاکھ س79ہزارسے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جبکہ مزید ٹیسٹ جاری ہیں۔دوسری جانب سعودی عرب نے مملکت بھر میں مساجد میں نمازوں کے بعد خطبات اور اسباق کی مشروط اجازت دے دی ہے اور یہ شرط یہ عاید ہے کہ تمام شرکا کو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے عاید کردہ پابندیوں اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنا ہوگی۔سعودی عرب کی وزارت برائے اسلامی امور اور دعوت وارشاد نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ اسباق نمازوں کے فوری بعد پیش کیے جانے چاہییں اور ان کا دورانیہ 10 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے جبکہ خطبات کا دورانیہ 30 منٹ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ وزارت نے اس بات پر زوردیا کہ تمام مساجد کو کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے پیشگی احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنی چاہیے۔وزارت نے وضاحت کی کہ قرآن مجید کے حفظ کی کلاسیں تاحکم ثانی آن لائن جاری رہیں گی۔اس کے علاوہ کورونا وبا کی وجہ سے سعودی حکومت کی جانب سےاعلان کیا گیا ہے کہ اس بار حج میں صرف مملکت میں موجود مقامی اور تارکین وطن کو ہی حج میں شرکت کی اجازت دی جائے گی۔ جبکہ دیگر ممالک کے عازمین اس بار حج پر نہیں آ سکیں گے۔ سعودی وزارت حج وعمرہ نے کہا ہے کہ سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کی حج کے لیے رجسٹریشن وزارت کے ‘ای گیٹ’ کے ذریعے ہوگی۔اُردو نیوز کے مطابق سعودی وزارت حج و عمرہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزارت کے ‘ای گیٹ’ کے ذریعے حج رجسٹریشن کا فیصلہ ہوتے ہی اس کا باقاعدہ اعلان کردیا جائے گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.