نہ سال نہ مہینے نہ ہفتے ۔۔۔۔ وزیراعظم کب مہنگائی کے مکمل خاتمے کا اعلان کرنے والے ہیں ؟ اسد عمر نے پاکستانیوں کو شاندار خبر دے دی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے پورا ترقیاتی بجٹ استعمال کرنے کے لئے کہا ہے اور ہم ایسا ہی کریں گے، ایم کیو ایم والے ساتھی ہیں اور کراچی میں کام کے لیے ان کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ رواں مالی سال وفاقی ترقیاتی

منصوبوں پر 188 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں اور اب تک ترقیاتی بجٹ سے 429 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری ہو چکی ہے، کراچی ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ تحریک انصاف کا شہر ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2021سے 2023تک نیشنل گروتھ سٹرٹیجی بنانے جا رہے ہیں ، جاری منصوبوں کی مانیٹری انتہائی کمزور ہے ، چھ ماہ میں منصوبوں کی مانیٹرنگ کو بھی بڑھائیں گے ،نیشنل اکنامک کونسل کی کمیٹی بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ پلاننگ کمیشن کا نیا پلان بنا رہے ہیں ، ری وائٹلائزیشن سٹریٹجی کے تحت پلان بنایا جائے گا، سی پیک پر سائنس وٹیکنالوجی کا جوائنٹ ورکنگ گروپ بنا رہے ہیں، گوادر ایکسپو کا انعقاد کیا جائے گا ، سی پیک میں تھرڈ پارٹی کی شمولیت کیلئے بھی فریم ورک ترتیب دیا جائے گا ۔ 2018-19میں 83فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال ہوا ، منصوبوں کی مانیٹرنگ اور ایویلوشن کو ری ویمپ کررہے ہیں۔ چھ ماہ میں ری ویمپ کا نظام تیار ہو جائے گا۔وزیر اعظم سے منظوری کیلئے این ای سی کی ذیلی کمیٹی کے قیام کی سمری بھیجیں گے،تعمیرات کے شعبے میں پراجیکٹ ڈویلپمنٹ بورڈ بنا رہے ہیں۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو ری سٹرکچر اور آپریشنلائز کرنے جارہے ہیں۔اسد عمر نے کہاکہ سی پیک سائنس و ٹیکنالوجی پرجوائنٹ ورکنگ گروپ بنائے گا، گوادر ایکسپو 2020 منعقد کریں گے،مراعات پر مبنی خصوصی اقتصادی زون ایکٹ پر کام شروع کرنے جارہے ہیں۔ زراعت میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کو دوبارہ سے فعال بنانے کی کہ اسد عمر اچھا کام کر رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے لئے کنسلٹینٹ کی خدمات حاصل کریں گے ، روات تک اسلام آباد ایکسپریس وے کا ٹھیکہ دینے کا کام بھی شروع کیا جا رہا ہے ،انہو نے کہا کہ کرونا وائرس سے سی پیک پر کوئی زیادہ اثر نہیں پرے گا ،اسلام آبا د کو پانی کی فراہمی کے لئے غازی بھراتھا اور خان پور سے پانی لانے کی منصوبے پر کام ہو رہا ہے ،۔اس موقع پر سیکریٹری پلاننگ ظفر حسن نے کہا کہ پانی کے شعبے میں کچھی کینال سے 26000 ایکٹر اضافی زمین میں آبپاشی کی ہے، جون تک مزید 25000ایکٹر اس میں ایڈ ہونگے۔جولائی تک تھر کے علاقے کا پانی کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ ……… خصوصی اقتصادی زون کا معاہدہ کرنے والے ہیں۔ آئی این پی کے مطابق اسد عمر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں کسی قسم کی کٹوتی نہیں کرنے جارہے۔ آئی ایم ایف نے بھی سالانہ ترقیاتی فنڈ میں کوئی کٹوتی لگانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ مالی سال 2014-15 میں 96 فیصد جبکہ مالی سال 2018-19 میں 83 فیصد پی ایس ڈی پی جاری ہوا، صرف سال 2017-18 میں بجٹ کا 66 فیصد خرچ کیا گیا۔ رواں سال جولائی تا جنوری تک پی ایس ڈی پی کا 27 فیصد جاری کیا جا چکا ہے۔ اسلام آباد میں پانی کی طلب 160ملین گیلن روزانہ جبکہ دستیاب 60 ملین گیلن روزانہ ہے۔ اسلام آباد کو گرمیوں میں پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ جس میں چوری اور ضیاع کو روکنا شامل ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کیطمابق انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان بنانا اور پانی کی کمی کا مسئلہ حل کرنا اولین ترجیح ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں۔ پالیسی کیا بنتی ہے ہفتے کے آخر تک پتہ چل جائے گا۔ لوگ جس حالت سے گزر ہے ہیں فوری ایکشن کی ضرورت ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کیلئے بحث و مباحثہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ اور خیبر پی کے میں گندم بھجوائی گئی آٹے کی قیمت ابھی زیادہ ہے اس پر کام کررہی ہے۔ سندھ حکومت نے ساڑھے سات لاکھ ٹن گندم خریدی تھی لیکن ایک ٹن بھی نہیں خریدی۔

ضرورت ہے۔کاٹن کی پیداوار میں کمی ایک بحران بنتا جارہا ہے۔

کرونا وائرس سے سی پیک منصوبوں کی رفتار میں معمولی کمی ہوئی ہے ، فلائٹ آپریشن بحال ہوگیا ہے ، لوگ آہستہ آہستہ واپس آرہے ہیں ،وزیراعظم عمران خان مہنگائی کو کنٹرول کرنے پر زوردے رہے ہیں اس کیلئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں ،اگلے تین ہفتوں میں ان کے اثرات آنا شروع ہو جائیں گے ، چینی آٹا بحران پر پی ایف آئی اے کی رپورٹ تیار ہورہی ہے ،اسلام آباد کا ماسٹر پلان اور پانی کے مسئلے کو حل کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ۔وفاقی حکومت نے کراچی کی عوام کیلئے پیکج دیا ہے ایم کیو ایم کیلئے نہیں دیا ، کراچی اب ایم کیو ایم کا نہیں تحریک انصاف کا شہر ہے ، کراچی کی عوام نے سب سے زیادہ ووٹ پی ٹی آئی کو دیے ہیں ،اتحادی حکومت کا ساتھ دیتے رہیں گے ، ایم کیو ایم کو وزارتیں پیش کرنے کا بلاول بھٹو کا بیان صرف سیاسی تھا ۔وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبے کی فزیبلٹی بنائی گئی تھی ،ورلڈ بینک ایم ایل ون منصوبے کی فزیبلٹی کا جائزہ لے رہا ہے ، فروری کے آخر میں فزیبلٹی اسٹریٹجی کے بارے میں واضح کریں گے ۔ خود ایم ایل ون منصوبے کا حمایتی ہوں ، اس منصوبے پر 1500ارب روپے کی لاگت آئے گی ، انتہائی اہم منصوبہ ہے اس میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے ، شیخ رشید کو بھی سمجھایا ہے کہ اگر دو چار ہفتے زیادہ بھی لگ جائیں تو کوئی مسئلہ نہیں ،ان سے سوال کیا گیا کہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ منصوبہ بندی کمیشن ایم ایل وان میں رکاوٹ ہے تو اسد عمر نے کہا کہ شیخ رشید یہ بھی تو کہتے ہیں

Sharing is caring!

Comments are closed.