وزیراعظم عمران خان کو ڈرائیور کا طعنہ مارنے والو !!!کیا تم جانتے ہو کپتان اس مختصر سے سفر میں سربراہان مملکت سے راز داری میں کیا بڑی باتیں منوا لیتا ہے ؟ تہلکہ خیز تفصیلات

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک خسرو بختیار نے کہا ہے وزیراعظم عمران خان کو ڈرائیور کا طعنہ مارنے والو کو خبردار کر دینا چاہتا ہوں کہ کپتان اس مختصر سے سفر میں سربراہان مملکت سے رازداری کے ساتھ ساتھ بڑی باتیں منوا لیتے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھاملک کے بڑے مسائل پر سیاست نہیں

کرنی چاہیے،دس سال کیلئے ملک کے بڑے مسائل پر قومی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر ہونا ہوگا ، یہ معیشت پر سیاست کرنے کا وقت نہیں بلکہ نیشنل اکنامک چارٹر لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئےخسرو بختیار کا کہنا تھا کہ معاشی نمو ہی معیشت کی بہتری کا واحد حل نہیں بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ گروتھ مستحکم ہے یا نہیں؟اگر ملک میں صرف درآمد کر کے اشیا استعمال کی جائیں تو ترقی کیسے ہوگی؟مسلم لیگ ن کے دورِ حکومت کے آغاز میں ایک ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 1.3 ڈالر کی درآمدات تھیں جبکہ ان کی حکومت کے خاتمے کے وقت یہ تناسب ایک ڈالر برآمدات کے مقابلے میں 2.3 ڈالر کی درآمدات تک چلا گیا تھا،پاکستان میں کھپت کی شرح94فیصد ہےاور پیداوارصفرہےجبکہ بھارت میں80فیصدہے۔انکا کہناتھاکہ معیشت کا پہیہ چلانے کےلیےکریڈٹ اور بینکس کو سیونگز کے ذریعے پیسہ حاصل ہوتا اور پاکستان میں سیونگز کی شرح صرف 10 فیصد ہے جبکہ بھارت میں یہ شرح 20 فیصد ہے،کئی دہائیوں سے معاشی ڈھانچے کی جانب توجہ ہی نہیں دی گئی اور زرعی شعبے میں محض نصف فیصد کی شرح نمو ہوئی۔خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ اگر پوری اپوزیشن ‘ٹیکس رجیم’ کی مخالفت کرے تو ٹیکس کلیکشن کی شرح 11 سے 12 فیصد ہی رہے گی، تجارتی کنکشنز کے صارفین کی تعداد 31 لاکھ ہے جس میں سے صرف14لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں ہیں،50لاکھ بینک اکاؤنٹس ہولڈرز کی موجودگی میں محض5لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں،جب

ملک پر قرضوں کا بوجھ 78 فیصد ہوگا تو اس کا سود ادا کرنے کے ساتھ حقیقی رقم بھی ادا کرنا ہوگی اور اگر اسی ریونیو کے ساتھ ہم چلیں گے تو مشکلات جاری رہیں گی،ہر وفاقی حکومت کا آغاز ہی خسارے سے ہوتا ہے کیوں کہ اگر حکومت مجموعی ملکی پیداوار کے 12 فیصد ٹیکس کی شرح پر 50 کھرب ریونیو بھی حاصل کرلے تو ساتویں ترمیم کے تحت 3 ہزار ارب روپے صوبوں کو دینے پڑتے ہیں اور ہر گزرتے سال کے ساتھ ان میں مشکلات کا سامنا ہر حکومت کو کرنا پڑے گا،سرمایہ کاری وقت کی ضرورت ہے جس کے ملک میں سرمایہ کاروں کو عزت دینے کا رجحان پیدا کرنا ہوگا،پورے پاکستان میں نجی شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح محض 9 فیصد ہے جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بینکس کے پاس دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں،ہمارے ملک کا یہ المیہ ہے کہ ہم پالیسیاں تبدیل کرتے رہتے ہیں ایک دفعہ تمام بینکس قومیالیے گئے اور بعد ازاں سب کو پرائیویٹائز کردیا گیا.خسرو بختیار کے مطابق بینکس اچھے سود پر صرف حکومت یا اہم صنعتوں مثلا سیمنٹ، کھاد، چینی وغیر کو پیسہ دے رہے ہیں جبکہ چھوٹے صنعتکار جنہیں سال 2000 تک مجموعی کریڈٹ کا 17-18 فیصد حصہ ملتا تھا آج صرف 6 فیصد حاصل کررہے ہیں،نئے شعبوں میں پیسہ پہنچانے کے لیے ہمیں نیشنل ڈیولپمنٹ فنانس انسٹی ٹیوشن بنانا پڑے گا،خطے میں چین اور بھارت کی شرح نمو دیکھیں جبکہ اپنی آبادی پر نظر ڈالیں جو 2047 تک 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی جسے اسی زمین سے خوراک مہیاکرنی ہوگی جبکہ ہماری پیداوار بڑھنے کےبجائےآج بھی فی ایکڑ پیداوار وہی ہے،ملک کو درپیش معاشی مشکلات کے باعث یہ معیشت پر سیاست کرنے کا وقت نہیں بلکہ ایک نیشنل اکنامک چارٹر لائیں اور 10 سالہ توانائی پالیسی پیش کریں، دنیا میں توانائی کی پالیسی 10 سے 15 سال کے عرصے کے لیے بنتی ہیں ایسی صورتحال میں کون سرمایہ کاری کرے گا جبکہ گردشی قرض ہی 12 ہزار ارب ہو؟ سرمایہ کاری لیے بجلی کے بہتر ٹیرف ضمانت اور سیکورٹیز دینی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے فی ٹیرف پیداوار بڑھ جاتی ہے اور خمیازہ پورا ملک بھگتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.