عربوں کو دوست اور دشمن کی پہچان ہونا شروع۔۔!! اسلام کا مذاق اُڑانے مہنگا پڑ گیا، متحدہ عرب امارات سے بھارتیوں کو نکلانے کا فیصلہ

دبئی ( نیوز ڈیسک ) بھارتی سفیر پون کپور نے متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ مذہبی طور پر توہین آمیز پوسٹوں کے معاملے میں احتیاط برتیں، کسی بھی طرح کا امتیازی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کسی بھی سطح پر عدم

تفریق کی اہمیت پر یقین رکھتے ہیں، امتیازی سلوک ہمارے اخلاقی تانے بانے اور قانون کی حکمرانی کیخلاف ہے، یہ بات یواےای میں بسنے والے بھارتی شہریوں کو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔بھارتی سفیر کا یہ بیان وزیراعظم نریندر مودی کے اُس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس نسل یا مذہب کو نہیں دیکھتا۔ بھارت میں مسلمانوں کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کے بعد نریندری مودی کے اس بیان کو بھارت کی معروف صحافی رعنا ایوب نے متحدہ عرب امارات حکومت کے دباؤ کا نتیجہ قرارد یا تھا۔بھارتی اخبار دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران یواے ای میں 6 بھارتی ملازمین کو سوشل میڈیا پر بھارت میں کورونا وباء کے پھیلاؤ کو مسلم کمیونٹی سے جوڑنے کے الزام میں نوکریوں سے برخاستگی اور مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مسلم مخالف مہم کے بعد یواے ای اور نیو دہلی سرکار کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہو گیا ہے، متحدہ عرب امارات کے حکام کی جانب سے بھارت پر یواے ای کی کمپنیوں سے ملازمت ختم ہونیوالے ہزاروں بھارتیوں کو اپنے ملک لیجانے کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔ایک اندازہ کے مطابق 33 لاکھ بھارتی شہری متحدہ عرب امارات میں ملازمت کی غرض سے رہائش پذیر ہیں۔ 18 اپریل کو شارجہ کے بزنس مین اور فلمساز سوہن رائے کو ایک ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی شکایت کے بعد سرعام معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔اسی طرح اپریل کے اوائل میں دبئی کی سروس کمپنی میں کام کرنیوالے راکیش بی کیتورمتھ، اکاؤنٹنٹ بالا کرشنا ناکا اور ابوظہبی کے رہائشی

متیش ادیشی کو سوشل میڈیا پر توہین مذہب کی پوسٹس شیئر کرنے کے جرم میں نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔مارچ میں دبئی کے رہائشی شیف ترلوک سنگھ کو ایک شہری ترمیمی ایکٹ کی مخالفت کرنے والے نوجوان کو آن لائن ریپ کی دھمکیاں دینے کے الزامات میں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔دبئی کی ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کے سربراہ سمیر بھنڈاری کیخلاف ملازمت کی درخواست دینے والے ایک بھارتی مسلم نوجوان کو نفرت انگیز لہجہ میں پاکستان چلے جانے کے آن لائن پیغام پر کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔متحدہ عرب امارات کے میڈیا میں بھارتی شہریوں کی جانب سے مسلمانوں کیخلاف کی گئی سماجی رابطے کی ایپس پر متعدد شکایات رپورٹ ہوئی ہیں۔ شاہی خاندان کی فرد، شارجہ کی شہزادی ہند فیصل القاسمی کی جانب سے متحدہ عرب امارات میں کام کرنیوالے بھارتیوں کو ملک چھوڑنے کی دھمکی پر سنسنی پھیل گئی ہے۔انہوں نے ایک پوسٹ کے جواب میں ٹویٹ کیا تھا کہ حکمران خاندان بھارتیوں کا دوست ہے لیکن ایک شاہی فیملی کے فرد ہونے کے ناطے آپ کی بدتمیزی کو خوش آئند قرار نہیں دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ آپ اپنی روزی روٹی اس دھرتی سے کماتے ہیں، جسے آپ نے طنز کا نشانہ بنایا ہے، آپ کی تضحیک آمیز رویہ کو نوٹس لیے بغیر نظر انداز نہیں کیا جائے گا، جو بھی شخص متحدہ عرب امارات میں کسی کو تضحیک کا نشانہ بنائے گا اسے جرمانہ کی سزا کے ساتھ ملک چھوڑنا ہوگا۔انہوں نے اپنا یہ ٹویٹ دبئی کی ایک ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کے سربراہ سورب اوپادھے کی

ان ٹوئٹس پر کیا تھا جس میں انہوں نے مسلمانوں کے سوشل اور معاشی بائیکاٹ کے حوالے سے بات کی تھی۔سورب اوپادھے نے بعد میں اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے اور پھر ان کی کمپنی کی ویب سائیٹ کو بھی بند کر دیا گیا۔دوسری جانب معروف کویتی صحافی محمد احمد الملا نے بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر دی ہے۔محمد احمد الملا کا کہنا ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان ہمارا بھائی ہے، اس کا ہم پر حق ہے۔ احمد الملا نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے‘‘۔ سوشل میڈیا پر وائر ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں آر ایس ایس نامی تنظیم مسلمانوں پر جو ظلم ڈھا رہی ہے اور مسلمانوں کی جو توہین کر رہی ہے وہ ناقابل برداشت ہے۔کویتی صحافی محمد احمد الملا نے بھارتی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی حالیہ لہر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان مظالم کا آغاز اس جھوٹ سے ہوا کہ بھارت میں کورونا وائرس مسلمانوں کی ذریعے پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تذلیل صرف چند ہندوستانی مسلمانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بھارتی اراکین پارلیمنٹ نے بھی تمام عرب ماؤں کو گالیاں دی ہیں۔صحافی کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ کورونا وائرس کا نہیں بلکہ متعصبانہ نسل پرستی کا ہے۔ محمد احمد الملا کا کہنا تھا کہ جہاں تک میں نے دیکھا ہے ایسا کرنے والے ہندوستان کے اندر تک نہیں بلکہ یہاں عرب میں ہمارے درمیان بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک میں رہنے والے بھارتی ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دوسرے لوگ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے یہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔کویتی صحافی نے امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم پوری قوت سے اس نفرت کا مقابلہ کریں اور ایسے لوگوں کو نکال باہر کریں جو ہماری ہی سرزمین سے ہم پر حملہ آور ہیں۔ صحافی نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ تمام مسلم ممالک کو بھارتی مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے، مومن، مومن کے لیے عمارت میں لگی اینٹ کی طرح ہوتا ہے جو ایک دوسرے کی طاقت کا باعث ہوتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.