چائنہ نے امریکہ سمیت پوری دنیا کو کس طرح اپنی انگلی پر نچانا شروع کر دیا ہے اور مقصد کیا ہے؟ ناقابل یقین انکشاف

لاہور(نیوز ڈیسک) دنیا بھر میں سونے کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔پاکستان میں بھی سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں 1920.9 ڈالر فی آونس ہے جو کہ 2011 کے بعد تاریخ کی نئی بلند

ترین سطح ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتیں بڑھنے کی بنیادی وجوہات امریکہ اور چین کے درمیان گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پڑھنے والی کشیدگی،ڈالر کی قدر میں کمی اور کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والا معاشی بحران ہے۔بدقسمتی سے ان میں سے کوئی بھی چیز اس وقت بہتر ہوتی نہیں دکھائی دے رہی اس لئے سرمایہ کار اپنا پیسہ اس چیز میں منتقل کر رہے ہیں جو کہ ان کے لئے زیادہ محفوظ ہے۔گزشتہ ہفتے امریکہ نے چین کو ہیوسٹن شہر میں موجود اپنا سفارت خانہ فوری طور پر بند کرنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی سفارت خانہ بند کر دیا، اسی کشیدگی کے بعد سرمایہ کاروں کی اکثریت نے اپنا سرمایہ ڈالر سے سونے میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ڈالر کی قیمت بھی گرنا شروع ہوگئی ہے۔اس وقت سونے کی قیمت اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے لیکن حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ کیا یہ قیمت یہی برقرار رہے گی یا اور بڑھیں گی۔سونے کی قیمتوں میں ابھی مزید اضافہ متوقع ہے۔ہوسکتا ہے سونے کی قیمت 2 ہزار ڈالر فی اونس تک چلی جائے ۔واضح رہے کہ ایشین مارکیٹ میں سونے کے نرخ 1944.71 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے جس کی وجہ امریکا چین کشیدگی، کورونا وائرس کے کیسز میں تیز ی سے اضافہ اور امریکی معیشت کی بحالی کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا نئے پیکج بارے سستی کا مظاہرہ ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ہانگ کانگ مارکیٹ میں پیر کو سونے کے نرخ 1944.71 ڈالر فی اونس کی تاریخی سطح پر پہنچ گئے جو9 سال کی بلند ترین سطح ہے۔اس سے قبل 2011 ء میں سونے کے نرخ 1921.18 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئے تھے۔ادھر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سونے کے نرخ جلد 2 ہزار ڈالر فی اونس کی سطح عبور کرسکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *