بڑی کامیابی۔!! کورونا ویکسین کا انسانوں پر کامیاب تجربہ۔۔۔ کتنے افراد فوری صحتیاب ہوگئے؟ حیران کن خبر

ووہان (ویب ڈیسک) چین میں کورونا وائرس ویکسین کے ’’انسانی تجربے‘‘ کے بعد 14 افراد مکمل صحت مند ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی شہر ووہان میں کورونا ویکسین کو انسانوں پر آزمایا گیا۔ اس تجربے کے لیے 108 افراد نے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کیا،

پہلے مرحلے میں 18 شہریوں پر تجربہ کیا گیا۔ ٹرائل کے بعد 14 افراد نے اپنی صحت برقرار رکھی اور وہ مکمل طور پر روبہ صحت ہیں، اسی بنیاد پر ماہرین نے انہیں گھر بھیج دیا البتہ 6 مہینے تک ان کا وقفے وقفے سے جائزہ لیا جاتا رہے گا۔کورونا ویکسین کی آزمائش کے بعد رضاکاروں کے 18 افراد پر مشتمل گروہ کو چودہ دن کے لیے آئسولیشن میں رکھا گیا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی تجربے کا جائزہ لیا جارہا ہے، اگر کامیاب رہا تو اسے دیگر ممالک کے شہریوں پر بھی آزمایا جائے گا۔ چین کے اعلیٰ ملیٹری ادارے کے شعبہ طب نے ویکسین کی تیاری کے بعد اسے انسانوں پر ٹرائل کے لیے 17 مارچ کو پیش کیا۔ 18 سے 60 سال کے عمر کے افراد نے اس تجربے میں حصہ لیا ہے۔ ٹرائل میں حصہ لینے والے رضاکاروں کی تعداد 108 ہے۔ جبکہ دیگر مرحلے میں تمام افراد پر ویکسین کو ٹیسٹ کیا گیا۔ 14 افراد کے علاوہ تمام افراد تاحال آئسولیشن میں ہیں۔ گھر پہنچنے والے ایک رضاکار کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کے دوران انہیں درد اور تکلیف کا احساس نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی بیماری محسوس کی۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی شہر ووہان میں کورونا ویکسین کو انسانوں پر آزمایا گیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کے شہرسیاٹل میں کورونا کے مریض کو ویکیسن دی جائے گی اور اس کی فنڈنگ قومی ادارہ برائے صحت نے کی ہے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے ویکیسن کو پینتالیس صحت مند افراد پر بھی آزمایا جائے گا اور شرکا پر ویکیسن کے منفی اثرات ہونے کا کوئی امکان کیوں کہ وہ کورونا سے متاثر نہیں ہیں۔ کورونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل اضافے کے سبب دنیا بھر میں درجنوں تحقیقی گروپ ایک ویکسین بنانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں اور ایک وقت میں مختلف اقسام کی ویکسینوں پر کام کیا جارہا ہے۔ زیادہ توجہ نئی ٹکنالوجی سے تیار کردہ شاٹس پر دی جا رہی ہے کیوں کہ روایتی ٹیکوں کی نسبت نہ صرف ان کو تیزی سے تیار کیا جاسکتا ہے بلکہ زیادہ مؤثر بھی ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.