حالات قابو سے باہر : پورے ملک میں ایک ہی بار سخت ترین لاک ڈاؤن ۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے ) کے اہم عہدیدار کا کہنا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے پھیلائو پر قابو پانے کیلئے ابھی تک کوئی یکساں پالیسی تشکیل نہیں پائی جسکے باعث کرونا وائرس کی صورتحال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے، حکومت نے

ڈاکٹروں کے سوا سب کی سنی، مکمل لاک ڈائون ضروری ہے، اسمارٹ لاک ڈائون بے فائدہ، مویشی منڈیاں نہ لگائی جائیں، دوائوں کے نام نہ بتائے جائیں مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہیں، اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے ایک ہفتے سے مریضوں کی تعداد میں کمی واقعہ ہوئی ہے ایسا اسمارٹ لاک ڈائون کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ یہ صرف اسلئے کہ ٹیسٹوں کی تعدا کم کر دی ہے، ہمارے ہاں کرونا ٹیسٹنگ کی گنجائش مطلوبہ حد تک نہیں ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چئیرمین کورونا ایڈوائزری ڈاکٹر شوکت محمود نے کہا ہے کہ موسم گرما کا کورونا وائرس کے ختم ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے کیسز میں کمی کا رجحان گرمی سے نہ جوڑیں، گرم موسم کا وائرس ختم ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈاکٹر شوکت محمود نے کہا ہے کہ ثنا مکی کے استعمال سے بہت سے لوگ ڈائیریا میں مبتلا ہوگئے، کورونا کے حوالے سے شہری سنے سنائے ٹوٹکوں سے پرہیز کریں۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ ممکن ہے کہ بڑوں شہروں سے وائرس چھوٹے شہروں میں منتقل ہوجائے۔دوسری جانب نمائندہ ڈبلیوایچ او ڈاکٹرجمشید نے کورونا اور مویشی منڈی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید سے 15 دن پہلے مویشی منڈی لگے گی، مویشی منڈیاں شہر سے دور مقامات پر لگائی جائیں گی۔نمائندہ ڈبلیوایچ او ڈاکٹرجمشید کا مزید کہنا تھا کہ مویشی منڈیوں میں زیادہ عمر اور بچوں کا داخلہ بند ہوگا، چھوٹی چھوٹی منڈیاں لگائی جائیں گی تاکہ رش کم رہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.