تاریخ کا انوکھا ایک تجربہ شروع

ٹونٹی فور سیون ڈیلی نیوز!روس کی ایک تجربہ گاہ میں انوکھے خلائی تجربے کے لئے تین مردوں اور تین خواتین کو 17 دن کے لئے ایک ڈبے میں بند کردیا گیا ہے۔ یہ تجربہ چاند پر بھیجے جانے والے خلائی مشن کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ سیریس پروگرام کے نام سے شروع کیا گیا یہ تجرباتی پراجیکٹ امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے

تعاون سے جاری ہے۔ دی ویکلی آبزرور کے مطابق روس کے انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل اینڈ بائیولوجیکل پرابملز کے سربراہ اولیگ اورلوف کا کہنا تھا ”اب تک ہماری توجہ خلاءمیں جانے پر رہی، لیکن اب ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ خلاءمیں جاکر ہم زندگی کیسے گزاریں گے۔ ہم اس کے لئے ایسے تجربات کررہے ہیں جن سے سیکھ سکیں کہ خلاءمیں زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے اور وہاں زندگی گزارنے کے لئے ہمیں کس طرح کی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوگی۔“ اس سلسلے میں شروع کئے گئے پہلے تجربے کا دورانیہ 17 دن ہوگا کیونکہ چاند پر جانے اور واپس آنے کیلئے کل 17 دن کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ابتدائی تجربے کی کامیابی کے بعد مرد اور خواتین سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو چار ماہ، 8ماہ اور پھر پورے ایک سال کیلئے خلائی کیپسول میں بند رکھا جائے گا۔ ان تجربات کے دوران خلائی کیپسول میں بند کئے گئے سائنسدانوں کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات، ان کی ذہنی و نفسیاتی حالت اور دیگر اہم امور کے بارے میں معلومات جمع کی جائیں گی۔ خلائی کیپسول میں بند کی گئی خواتین سائنسدانوں میں 33 سالہ اینا کیکینا، 37 سالہ الینا لشکاجا اور 27 سالہ نتالیا لیزا شامل ہیں جبکہ مرد سائنسدانوں میں مارک سیروف، ڈاکٹر الیا روکا، اور ویشنیکوف شامل ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.