طاقت کے راز

کیا پرجوش جسمانی تعلقات کا خوراک پر واقعی کوئی انحصار ہے؟ جسمانی طاقت بڑھانے کی خواہش نے انسان کو عجیب و غریب بلکہ پاگل پن کی حد تک جن ذرائع کو استعمال کرنے پر مجبور کیا ان میں ہسپانوی مکھی، کوبرا سانپ کا خون اور جاپانی زہریلی مچھلیاں بھی شامل ہیں۔ انار کو محبت کے سیب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ پھل بھی

قوت بڑھانے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ اس میں اینٹی آکسائڈنٹ پایا جاتا ہے جو خون کے بہاؤ کو بڑھانا ہے۔ (سوشل میڈیا) اکثر لوگ کن دو چیزو ں کے بارے میں سب سے زیادہ سوچتے ہیں؟ جی ہاں آپ کا اندازہ درست ہے خوراک اور سیکس کے بارے میں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں کا آپس میں گہرا تعلق بھی ہے۔ رومانوی کھانا اور ایک بھرپور دعوت۔۔۔ اور ہاں مشہور امریکی رومانٹک ڈرامے ’نائن اینڈ آ ہاف ویکس‘ کے مناظر بھی تو آپ کو یاد ہوں گے۔ شاید ہم اسی وقت سے خوراک اور جنسی طاقت کے باہمی تعلق کے بارے میں پختہ یقین رکھتے ہیں، جب سے انسان نے کھانا بنانا سیکھا تھا۔ لیکن کیا جسمانی طاقت بڑھانی والی خوراک کے حوالے سے دعووں میں حقیقت بھی ہے یا یہ محض الٹے سیدھے نظریات ہی ہیں؟ ایفروڈیزیک (جنسی طاقت بڑھانے والی خوراک) کا نام محبت کی یونانی دیوی ایفروڈائٹی کے نام پر رکھا گیا ہے جو ایک سیپ کے خول میں رہتی تھی، یہی وجہ ہے کہ سمندری خوراک کو اس مقصد کے لیے سب سے بہترین مانا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دیگر کھانے کی چیزوں کے مشہور ہونے میں شاید ان کی ظاہری شکل کا بہت عمل دخل ہے، مثال کے طور پر گاجر، انجیر اور اس

طرح کی دیگر سبزیاں یا پھل اپنی شکل کی وجہ سے اس معاملے میں کارآمد سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے اس مہذب دور میں ایسی باتیں شاید مذاق معلوم ہوں لیکن دماغ کو پیار بھرے معاملات میں پلٹنا مشکل کام نہیں ہے خاص طور اس بارے ترغیب دینے والی اشکال جیسا کہ چینل فور پر دکھائے جانے والے ’کوکمبر‘ سیریز میں دکھایا گیا ہے۔ جسمانی طاقت بڑھانے کی خواہش نے انسان کو عجیب و غریب بلکہ پاگل پن کی حد تک جن ذرائع کو استعمال کرنے پر مجبور کیا ان میں ہسپانوی مکھی، کوبرا سانپ کا خون، جاپانی زہریلی مچھلی اور لنگور کا پیشاب تک شامل ہے۔ دنیا بھر میں یہ سب کچھ بستر پر اچھا وقت گزارنے کے لیے نگل لیا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ مچھروں کو ختم کرنے کے لیے ’زہریلا‘ انسانی خون افسوسناک طور پر گینڈے کے سینگ بھی اس مقصد کے لیے بطور دوا استعمال ہوئے اور بڑھتی ہوئی خواہشات کے باعث یہ جانور دنیا سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عجیب اور حیرت انگیز خوراکیں بھی موجود ہیں جیسا کہ گوینتھ پالٹرو کی ویب سائٹ Goop.com جس پر موجود جڑی بوٹیوں کے لیے آپ کو کئی سپر سٹورز کی خاک چھاننا پڑے گی۔ لیکن ہم آپ کو چھ ایسی غذاؤں کے بارے میں بتاتے ہیں جو

صدیوں سے قدرتی طور پر ایفروڈیزیک کا کردار ادا کرتی ہیں۔

1۔ اویسٹرز (کستورا مچھلی)
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ سمندری خوراک کو اشتہا بڑھانے میں اہم مانا جاتا ہے لیکن اویسٹر یا کستورا مچھلی جو ایک خول میں بند رہتی ہے اس حوالے سے سب سے زیادہ شہرت رکھتی ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں زِنک پایا جاتا ہے جو نہ صرف مردانہ ہارمونز کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے بلکہ یہ ان کی ترتیب کو بھی درست رکھتا ہے۔

2۔ چاکلیٹ

لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں مفید کیمیکل شامل ہوتے ہیں جن سے ایسے ہارمون خارج ہوتے ہیں جو انسان میں خوشی کا احساس بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم اس بات پر بحث کی جا سکتی ہے کہ ایسے کتنے کیمیکل ہمارے دماغ میں جذب ہو سکتے ہیں۔ تو کیا ایک فیملی سائز کی ’ڈیری مِلک‘ کے کھانے سے آپ کی کارکردگی میں کوئی فرق پڑ سکتا ہے یا اس سے آپ کے جذبات مر جائیں گے؟ ہاں ڈارک چاکلیٹ میں ڈوبی ہوئی ایک یا دو سٹرابیری کھانے سے کچھ زیادہ نقصان کا احتمال نہیں ہے۔

3۔ تربوز

تربوز میں شامل سٹرولائن کیمیائی مادہ خون کی نالیوں میں ایسا کردار ادا کرتا ہے جیسا ویاگرا کی گولی۔ تربوز کھانے میں کچھ زیادہ بھاری نہیں ہوتا اس وجہ سے یہ آپ کی شام کو یادگار بنانے کی تمام صلاحیت رکھتا ہے۔
4۔ مرچ

مسالےدار خوراک انسانی جسم گرم رکھتی ہے۔ مرچ سے آپ کے

دل کی پمپنگ بہتر رہتی ہے، یہ اعصاب میں جوش پیدا کرتی ہے اور خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتی ہے۔ لہٰذا اس بات میں حقیقت نظر آتی ہے کہ مرچیں آپ کو مکمل فعال رکھنے کی صلاحیت سے بھرپور ہوتی ہیں. بس اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں کھانے کے بعد اپنے ہاتھ دھونا نہ بھولیں۔

5۔ انار

انار کو محبت کے سیب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ پھل بھی قوت بڑھانے کے لیے شہرت رکھتا ہے۔ اس میں اینٹی آکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو خون کے بہاؤ کو بڑھانا ہے جس سے مذکورہ اعضا میں حساسیت بڑھ جاتی ہے۔
کیلا 6
پوٹاشیم سے بھرپور یہ پھل اپنی شکل کی وجہ سے بھی ایفروڈیزیک سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں شامل پوٹاشیم واقعی پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے اور ان میں اتنی طاقت پیدا کرتا ہے جس سے آرگیزم میں شدت پیدا ہوتی ہے۔
بشکریہ:The independent

Sharing is caring!

Comments are closed.