حکومت ہل کر رہ گئی۔۔!! ڈاکٹر ظفر مرزا کے بعد عدالت نے کس کس کو ہٹانے کا حُکم جاری کر دیا؟ ملکی سیاست میں ہلچل

کوئٹہ(نیوز ڈیسک ) بلوچستان کابینہ میں غیر منتخب من پسند افراد کی فوج ظفر موج کی چھٹی‘ بلوچستان ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقریری اور خصوصی قانون 2018غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردی‘سموار کو علی احمد کاکڑ ایڈوکیٹ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس آف بلوچستان

ہائیکورٹ جناب جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس عبداللہ بلوچ نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاونین خصوصی کی تقریری اور خصوصی قانون 2018غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کردیا . معزز عدالت نے وزیراعلی کے معاونین خصوصی ایکٹ 2018 کو کالعدم قرار دے دیا ایکٹ کے تحت معاونین خصوصی کی تقرری بھی غیر آئینی قراردیدی گئی ‘ عدالت نے اپنے فیصلے میں وزیراعلی کے معاونین خصوصی کو تنخواہوں کے علاوہ تمام مراعات واپس کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ علی احمد کاکڑ ایڈوکیٹ نے وزیراعلی کے معاونین خصوصی ایکٹ عدالت چیلنج کیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے معاون خصوصی ظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا اور چیف جسٹس نے ڈاکٹر ظفر مرزا کوعہدے سے ہٹانے کا کہتے ہوئے کہا ہم اپنےعدم اطمینان کو عدالتی حکم نامےمیں لکھیں گے ، جس پر اٹارنی جنرل نے کاہ اس وقت ظفر مرزا کو ہٹایا تو بحران پیدا ہوجائے گا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کورونا ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی ، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا پارلیمان کے اجلاس کے انعقاد سے متعلق بتائیں، یہ پہلی بات تھی تو ہم نے اپنے تحریری فیصلے میں لکھی۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 7 اپریل کےفیصلے میں عدالت

ےحکومت کوبریفنگ کی اجازت دی ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ بریفنگ دینے والی کمیٹی سے ہم نے 5 سوال پوچھے ایک کا جواب نہیں ملا، آپ کی ٹیم کیا کام کر رہی ہے ہمیں نہیں معلوم ،حکومت کی معاون خصوصی کی فوج ہے، 50 لوگوں پر مشتمل بڑی کابینہ ہے، ان 50 لوگوں پرمبینہ طور پر جرائم میں ملوث ہونے کےبھی الزامات ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ریمارکس دینےمیں بہت احتیاط برت رہےہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت اس بات کومدنظر رکھے کورونا صورتحال پر کوئی ملک تیار نہیں تھا۔جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ ہمارے خدشات بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور استفسار کیا کہ کیا آپ نے سوشل ڈسٹنسنگ کا حال گزشتہ ہفتے دیکھا تھا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا 22 کروڑ عوام کا ملک ہے، فوج کے ذریعے بھی 22 کروڑ افراد سے سوشل ڈسٹنسنگ زبرستی نہیں کرائی جاسکتی ، سوشل ڈسٹنسنگ کیلئے صوبائی حکومتوں کو بھی اپنا کام کرنا ہوگا۔دوران سماعت چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا مشیروں کو وفاقی وزرا کا درجہ دے دیا، مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آپ ایسی بات نہ کریں تو جسٹس گلزار نے مزید کہا کہ میں نے مبینہ طورپران کوکرپٹ کہاہے، اس وقت ظفر مرزا کیا ہے اور اس کی کیا صلاحیت ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ہم نےحکم دیاتھاپارلیمنٹ قانون سازی کرے، پوری دنیا میں پارلیمنٹ کام کررہی ہیں عدالت کے سابقہ حکم میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب نہیں آئے، ظفرمرزا نے عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔اٹارنی جنرل نے کہا کوروناسےلڑنےمیں وسائل کی

کمی کاسامناہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا حکومت نےسماجی فاصلے کے حوالے سے کیا کام کیاہے، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب میں کہا کہ سماجی فاصلے قائم رکھوانا مشکل عمل ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس میں طاقت کےاستعمال سے زیادہ عوام کے شعور کا عمل ہے، معذرت کے ساتھ وزیراعظم نے خود کو لوگوں سے دور کیا ہوا ہے، شیروں اور معاونین خصوصی کی ٹیم نے وفاقی کابینہ کو غیر مؤثرکر رکھا ہے، کابینہ کا حجم دیکھیں 49ارکان کی کیا ضرورت ہے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ مشیراورمعاونین نے پوری کابینہ پر قبضہ کر رکھا ہے، اتنی کابینہ کا مطلب ہے وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں ، ہم آپ کے کام میں کوئی مداخلت نہیں کررہے۔جسٹس قاضی امین نے کہا ہم چاہتے ہیں معاملات حل ہوں، ہم بریفنگ میں کہہ چکےتھےکہ ہم مداخلت نہیں کررہے، جسٹس گلزارکا کہنا تھا کہ ہمار ا مقصد آرٹیکل 9کا اطلاق ہے۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے بارے میں تو پارلیمنٹ ہی طےکرےگی، حکومت قانون سازی کےمراحل میں ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ صوبائی حکومتیں کچھ اورکر رہی ہیں مرکز کچھ اورکام کررہاہے تو اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ ایسا 18ویں ترمیم کی وجہ سے ہو رہا ہے، اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو اختیار دیا گیا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کورونا سے مرنے والوں کی تعداد تو آ گئی ، بھوک سے مرنے والوں کی تعداد نہیں بتائی جا رہی، ہم لوگوں کو بھوک سے مرنے نہیں دیں گے۔جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ریاستی مشینری کو اجلاسوں کے

علاوہ بھی کام کرنے ہوتے ہیں، کیاملک بندکرنے سے پہلے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا، حکومتی مشیران اوروزرائے مملکت پرکتنی رقم خرچ کی جارہی ہے؟ مشیران ووزرا پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جارہی ہے؟چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مشیران اورمعاونین کابینہ پر حاوی ہوتےنظرآرہےہیں، یہ کیا ہو رہا ہے؟ کابینہ کے فوکل پرسن بھی رکھے گئے مشیران ہیں، کیا پارلیمنٹیرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے گھبرا رہےہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اپنے اپنے راستے ہیں، ہر سیاستدان اپنا الگ بیان دے رہا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت سیاسی لوگوں کےبیانات پرنہ جائے، وفاقی اورصوبائی حکومتیں صلاحیت کےمطابق تدابیر اختیارکر رہی ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا پاکستان میں بڑے مینوفیکچررز موجود ہیں کیا وہ حفاظتی کٹس نہیں بنا سکتے؟جسٹس عمرعطا بندیال کا کہنا تھا کہ ایشوعوام کی آزادی اورصحت کاہے، اسپتالوں میں ڈاکٹر کو غذا بھی غیرمعیاری فراہم کی جارہی ہے، ویڈیو دیکھی ڈاکٹر کھانے کی بجائے عام آدمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے پارلیمنٹ ریاست کی طاقت ہوتی ہے، اس کی نمائندگی کرتی ہے، لوگوں کوگھروں میں بندکر دیا گیا ہے حکومت ان تک پہنچے، عام بندےکوپولیس پکڑ کر جوتے مار رہی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا حکومت لوگوں کو سپورٹ کرے تو وہ بات مانیں گے۔جسٹس قاضی امین نے مزید کہا کہ لوگ بھوک سے تلملارہےہیں ہم انارکی کی طرف بڑھ رہےہیں ، کورونا سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے، صدر مملکت پارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس کیوں نہیں بلاتے؟اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لوگ بھوک سے مر جائیں گے ، اس بات کا وزیر اعظم کو ادراک ہے، اس لیے وزیر

اعظم کچھ کاروبار کھولنا چاہتے ہیں، حکومت کورونا سے تحفظ کا آرڈیننس بھی لا رہی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی سندھ نےسنی سنائی باتوں پرکراچی کےکئی علاقےبندکردیے، کل کو پورا کراچی بند کردیں گے، قومی رابطہ کمیٹی کے آج کے اجلاس سے کیا ہوگا، وقت آرہا ہےکراچی میں پولیس اورسرکاری گاڑیوں پر ہجوم حملے کریں گے۔ایڈو وکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ حکومت لوگوں کوسماجی فاصلے سے متعلق ہدایات دے سکتی ہے، جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ لوگ سماجی فاصلوں پر عمل نہ کرے تو اس کا مطلب ہے سرنڈر کردے۔جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیئے لاکھوں لوگ بےروزگار ہوگئے،ڈیٹا حکومت کےپاس نہیں، حکومت کو خودعوام تک رسائی یقینی بنانی ہوگی، اسلام آباد میں بیٹھ کراجلاس کرنے سےکچھ نہیں ہوگا، صرف الیکٹرانک ڈیٹا پرہی انحصار نہ کیا جائے۔جسٹس عمرعطابندیال نے استفسار کیامشکل حالات میں حکومت ڈیلیورنہیں کر پائی تو کیا فائدہ؟ میرے گھر پینٹ کرنے والے نے راشن کیلئے مجھے میسج کیا، ایسے دیہاڑی دار طبقے کیلئے حکومت کو عملی کام کرنا ہوگا ، وقت آگیا ہے ڈاکٹروں کو سیلیوٹ کیا جائے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا لاک ڈاؤن کامطلب کرفیوہوتاہے، کیاکراچی کی متاثرہ 11یونین کونسلز کے ہر مکین کا ٹیسٹ ہوگا؟ سیل کی گئی 11یونین کونسلز کی کتنی آبادی ہے؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا متاثرہ یونین کونسلز کی آبادی کا درست علم نہیں، متاثرہ یونین کونسل میں کھانے پینے کی دکانیں کھلی ہیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا جن رہائیشیوں کےپاس وسائل نہیں وہ کیاکریں گے ؟ کل پورا سندھ رو رہا تھا، میرپورخاص، سکھر، تھرپارکر میں چیخ وپکار ہے، سندھ حکومت کے دعووں اور زمینی حقائق میں بہت فرق ہے،کل

لائنزایریا کراچی میں بھی حالات بہت خراب تھے۔جسٹس قاضی امین نے استفسار کیا کیاسندھ حکومت عوام کےآگے سرنڈرکر رہی ہے؟ لائنز ایریامیں کھانا فراہم کرنے کی کیا منصوبہ بندی ہے؟ لوگ بھوک سےتلملا رہے ہیں کھانا نہ ملا تو خانہ جنگی ہوگی، ہر سیاسی جماعت دوسری کےخلاف پریس کانفرنس کررہی ہے۔جسٹس قاضی امین نے کہا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلاکر سیاسی جماعتوں کو ایک ہونا چاہیے، غریب آدمی سڑک پرنکلے تو جوتے مارے جاتے ہیں، کل ایک بڑے صاحب کا جنازہ تھا لوگ کندھے سے کندھا ملاکر کھڑےتھے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا اب تک کتنے افراد کو راشن ملا؟ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ 4 ہزار افراد کو 12 تاریخ تک راشن فراہم کیا گیا، تو جسٹس سجادعلی شاہ نے کہا مقدار کیا تھی؟کہاں سے خریدا؟کس کو دیا؟ کوئی ریکارڈ ہے، کیا اس اصول پر عمل کر رہے ہیں کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے کوپتہ نہ چلے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کیاوفاق اورصو بوں میں ہم آہنگی ہے؟ سوال صرف سندھ نہیں بلکہ تمام صوبوں سے کر رہےہیں، حکومت چاہے سو دفعہ لاک ڈاؤن کرے عدالت کو کوئی ایشو نہیں ، لاک ڈاؤن لگانے سے پہلےحکومت کے پاس پلان بھی ہوناچاہیے۔جسٹس سجادعلی شاہ نے کہا سندھ حکومت نے11یوسیزکوسیل کردیا، ویڈیوز میں پولیس والے راشن کھینچ کھینچ کر لے جارہے ہیں، سندھ حکومت نے 8ارب کا راشن تقسیم کیا لیکن غریب کوپتہ بھی نہیں چلا۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا عدالت ڈاکٹر ظفر مرزا کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، ہم اپنےعدم اطمینان کو عدالتی حکم نامے میں لکھیں گے ، اٹارنی جنرل نے کہا آپ یہ معاملہ حکومت پر چھوڑ دیں،

جس پر چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کا ایک جز آئین کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نےڈاکٹرظفر مرزاکوعہدے سےہٹانےکاکہہ دیا، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت ظفر مرزا کو ہٹایا تو بحران پیدا ہوجائے گا ، اس وقت ملک میں کورونا کے باعث بحران کی کیفیت ہے۔سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کاظفر مرزا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ، اٹارنی جنرل نے کہا اس وقت ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانا تباہ کن ہوگا، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا ظفرمرزاکیخلاف ایف آئی اے میں جوانکوائری چل رہی ہے وہ کیاہے۔اٹارنی جنرل نے جواب میں بتایا کہ کسی شخص نےڈاکٹر ظفرمرزاکیخلاف درخواست دی ہے، ظفرمرزا نے چین کو جو بھی سامان بھیجا حکومت کی اجازت سے بھیجا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ جوبھی کام کرتےہیں حکومت کی اجازت سے کرتےہیں، آپ نے چینی بھی حکومت کی اجازت سے ایکسپورٹ کی اورآٹابھی ، پھرآٹا چینی امپورٹ بھی حکومت کی اجازت سے ہی کیا۔کابینہ میں حالیہ ردوبدل پر چیف جسٹس نے نام لئے بغیر تبصرہ کرتے ہوئے کہا وزیراعظم کابینہ میں مہرے بدل رہا ہے، کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کی جائے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ملکی قیادت کا موجودہ حالات میں امتحان ہے۔چیف جسٹس نے کہا وزیراعظم عالمی اداروں سےقرضوں کی واپسی کیلئے وقت مانگ رہا ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے صرف قرضوں کی بات نہیں کی، دیگر معاملات بھی اٹھائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پی پی ای کس ریٹ پر خرید رہی ہے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ پی پی ای

کے مختلف نرخ ہیں، سندھ میں مقامی طورپر حفاظتی کٹس کی تیاری شروع ہو چکی، مقامی سطح پر روز5ہزار کٹس تیارہو رہی ہیں۔جسٹس سجادعلی شاہ نے استفسار کیا سندھ میں لوگوں کی مددکےلیےحکومتی سطح پرکیااقدامات کیے؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سندھ میں 5 لاکھ سے زائد لوگوں کو راشن فراہم کیا، جسٹس سجاد علی شاہ نے مزید استفسار کیا کہاں اور کس کو راشن فراہم کیا۔جسٹس سجادعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ سندھ پولیس تو جے ڈی سی والوں کو لوٹ رہی ہے ، 10 روپے کی چیزدیکر 4 وزیر تصویر بنوانے کھڑے ہو جاتے ہیں ، سندھ میں گٹر کا ڈھکن لگانے پر 4 لوگ کھڑے ہو کر تصویر بنواتےہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا سندھ میں راشن تقسیم کرنے کا کیا طریقہ کار ہے ؟ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے راشن تقسیم کیا جاتا ہے، جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا راشن دینے کےلیےکیامعیارمقررہے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ زیادہ تر لوگ یومیہ اجرت والےہیں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے پوچھا کہ کوئی کلپ ہےکہاں سے راشن خریدا کہاں دیا؟ یا ایک ہاتھ سے لینےدوسرے سےدینے والا کام یہاں بھی کیا ؟ تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا 5 لاکھ 4 ہزار 80 خاندانوں کو15 دن کاراشن دیا، ہر خاندان میں افراد کا تخمینہ لگا کر راشن دیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ پھر تو ایک من آٹے کی بوری چاہیے ہوگی ایک خاندان کے لیے، آپ نے راشن دینے کا کہہ دیا ہم نے سن لیا، اب دیکھتے ہیں قوم مانتی ہے یا نہیں، سندھ

میں لوگ سڑکوں پر ہیں، سندھ کے لوگ کہہ رہے حکومت نے یک ٹکابھی نہیں دیا۔جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ سوالات صرف سندھ نہیں بلکہ چاروں صوبوں کے لیے ہیں، کے پی توراشن کے بجائے نقد رقم بانٹ رہا ہے، ایک وقت تھا ملکی معیشت کی بنیاد صنعتوں پر تھی، اب صنعتیں گودام بن چکی ہیں، صنعتیں بند ہونےکی پرواہ پارلیمان کو ہے نہ حکومت کو۔چیف جسٹس نے کہا نجی سرمایہ کاری نہیں آ رہی تو حکومت خودصنعتیں لگائے، آج وزیراعظم قرض واپسی کیلئے مہلت کی اپیل کر رہےہیں، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ نیشنلائزیشن سےصنعتوں کونقصان ہواجوآج بھی بھگت رہےہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ مشیروں اور معاونین کی فوج سے کچھ نہیں ہونا، وزیراعظم کی ایمانداری پر کوئی شک و شبہ نہیں، وزیراعظم کے پاس صلاحیت ہےکہ کام کے 10بندوں کا انتخاب کرسکیں، ذرا سی مشکل آتے ہی ادھر کا مہرا ادھر لگا دیا جاتا، شاید معلوم نہیں کہ اگلا مہرا پہلے ہی لگائے جانےکیلئے تیار بیٹھا ہے۔کوروناسےمتعلق ازخودنوٹس کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ زیادہ لوگ اپنا کام کر رہےہیں گندے انڈے تھوڑے ہیں ، سویلین ہو یا فورسز سب اپنی کوشش کر رہےہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے علاوہ سب حکومتوں کی تفصیلات ہمارے پاس ہیں ، کچھ لوگ ایسے حالات میں بھی پیسہ بنا رہے ہیں، زندگی بچانے کے معاملات میں بھی پیسے کھائیں جائیں تومقصدختم ہوجاتاہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاک ڈاون کے حوالے سے اہم میٹنگ ہے، تمام تحفظات حکومت کے سامنے رکھوں گا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.