پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم وفضل۔۔۔ کورونا وائرس پاکستان سے کس حد تک ختم ہو گیا؟ پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ملک بھر میں کرونا وائرس کی وبا نے لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا ہے ،ایسی صورتحال میں حکومت لوگوں کو بہادری کے ساتھ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کی ہدایت د ے رہی ہے ۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کی جانب سے ایک شخص کی کرونا وائرس کے باعث ہلاکت کی تصدیق پر

وفاقی حکومت بھی میدان میں آگئی ہے اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرز ا نے اس کی تردید کردی ہے ۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا ہے کہ میں تصدیق کر سکتا ہے ہوں کہ اب تک پاکستان میں کرونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ۔اس حوالے سے جیو نیوز پر چلنے والی خبر غلط ہے ۔مرنے والے شخص کا کرونا وائرس ٹیسٹ منفی آیا تھا ۔انہوں نے رپورٹرز سے گزارش کی کہ جلدی خبردینے کے چکر میں غلط خبر نہ دیں ،حقائق کو دو بار چیک کر کے خبر دیں۔واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا تھاکہ چلاس سے تعلق رکھنے والا نوے سالہ شخص نمونیا اور تیز بخار کے باعث ہلاک ہوااور اس کا کرونا وائرس ٹیسٹ بھی مثبت تھا ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ 2012 اور 2013 کے دوران پوری دنیا میں کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی تصدیق ہوئی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی ویب سائٹ کے مطابق کوروناوائرس ماضی میں بھی سامنے آچکا ہےپریل 2012 سے مئی 2013تک کورونا وائرس کے چالیس کیسز کی مختلف لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق یہ کیسز مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں سامنے آئے تھے جن میں اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 40 کیسز میں سے20 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ادارے کے مطابق یہ کیسز فرانس ، جرمنی اور برطانیہ میں بھی رپورٹ ہوئے تھے اور ان تمام کیسز کا مشرق وسطیٰ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق تھا۔فرانس اور جرمنی میں متاثر ہونے والے افراد نے خود کبھی مشرق وسطیٰ کا سفر نہیں کیاتھا تاہم ان کے قرابت داروہاں سے آئے تھے جن سے انہیں بھی یہ مرض لاحق ہوگیا۔کورونا وائرس کا آخری کیس دس مئی2013کو سامنے آیا تھا۔متاثرہونے والے انتالیس افراد کی تفصیلات کے مطابق اکتیس مرد تھے اور ان کی عمریں 24 سے 94سال تک تھیں۔ان تمام کیسز کی لیبارٹریز سے تصدیق ہوئی تھی اور مریضوں کو ہسپتال بھی منتقل ہونا پڑا۔بہت سے مریضوں میں یہی علامات بھی ظاہر ہوئیں جو ابھی ہیں تاہم اس وقت کچھ لوگوں کو ڈائیریا کی شکایات بھی ہوئی تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک مریض ایسا بھی تھا جس میں مذکورہ علامات نہیں تھیں تاہم بخار، جسم میں درد اور دست جیسی شکایا ت تھیں، اس کا نمونیہ بھی اتفاقی طور پر ریڈیوگرافی کے دوران سامنے آیاتھا۔عالمی ادارے کے مطابق ان چالیس میں سے بیس مریض ہلاک ہوگئے تھے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.