حیران کن انکشاف : گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کیے جانے کے بعد جذباتی ہو کر اسحاق ڈار کا بیٹا کیا کرتا رہا ؟ جانیے

لندن(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار حکومت کی جانب سے اپنے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے پر جذباتی ہو گئے، حکومتی اقدام کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علی ڈار کا کہنا تھا کہ

حکومت کی جانب سے ہمارے گھر کو پناہ گاہ بنانے کا اقدام ریاستی دہشتگردی اور سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے، یہ حرکت 28 جنوری 2020 کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے آرڈر کی توہین ہے۔انہوں نے آبدیدہ لہجے میں کہا کہ اِس گھر سے اُن کی یادیں وابستہ ہیں،حکومتی اقدام کے خلاف عدالت جائیں گے۔ واضح رہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا گھر غریبوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کردیا ہےاور گلبرگ تھری میں واقع اسحاق ڈار کے گھر میں 50 بے گھر افراد کے لیے بستر لگوا دئیے گئے ہیں،پنا گاہ میں خواتین کی رہائش کا الگ انتظام کیا گیا ہے جبکہ گھر کے باہر پناہ گاہ کا بورڈ بھی نصب کر دیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا گھر نیلام کرنے سے متعلق احتساب عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے نیلامی کا عمل روک دیا تھا ۔خیال رہے کہ ضلعی حکومت لاہور نے ن لیگی رہنماء اسحاق ڈار کی گلبرگ میں واقع رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔اسحاق ڈار کی گلبرگ میں رہائشگاہ ہجویری ہاؤس 4 کنال 17مرلے پرواقع ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر نے پناہ گاہ میں بیڈز، میز کرسیاں اور ڈائننگ ٹیبل بھی لگوا دیے ہیں۔ عدالتی حکم پر رہائشگاہ کی نیلامی روک دی گئی تھی۔خیال رہے کہ چار کنال سترہ مرلے کے رقبے پر مشتمل اسحاق ڈار کے بنگلہ کی بولی کی مالیت 18 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود بولی میں شرکت کیلئے کوئی شہری وہاں نہ آیا۔ تاہم اب ضلعی حکومت نے محکمہ سوشل ویلفیئر کے ساتھ مل کرشام کو رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور اب وہاں پناہ گاہ کا باقاعدہ بورڈ آویزاں کردیا گیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.