پاکستان کے ساتھ جنگ یا سرجیکل سٹرائیک کی کوئی ضرورت نہیں ، پاکستان میں ہمارے ایسے ایسے زر خرید اور اشاروں پر ناچنے والے موجود ہیں جو ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ریٹائرڈ بھارتی جرنیل کی چشم کشا باتیں ، جان کر پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان نائن الیون کے بعدسے اب تک دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑ رہا ہے اور 70 ہزار جانوں اور کئی سو ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان اٹھا چکا ہے‘ تاہم پاک فوج کی لازوال اور بے مثال قربانیوں کے طفیل ہم نے اپنے شمالی علاقہ جات سے انسانیت کے

نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دشمنوں کو مار بھگایا اور ہمارے حکمرانوں نے جنگ کے بیچ میں ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ ہم نے دہشت گردوں کی کمرتوڑ دی ہے‘ مگر یہ بھول گئے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف تو جنگ جیت گئے‘ لیکن اپنے ازلی اوروایتی دشمن سے ہمیں ہمیشہ جنگ کا خطرہ لاحق ہے‘ نیز وہ دشمن جو بظاہر نظر نہیں آتااور وطن ِعزیز کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے ہر وقت برسر پیکار رہتا ہے‘اس کے وار کا دفاع ہمیں کس طرح کرنا ہے؟ کسی بھی ملک کی فوج کا کام لڑنا اور طاقت سے دشمن کو نیست نابود کرنا ہوتاہے ‘مگر وہاں کے حکمرانوں کا کیا کام ہوتا ہے؟ ہمارے حکمرانوں کوابھی تک یہ سمجھ نہیں آرہی ہے۔اگر بات سمجھ نہ آئے تو کم از کم ہمارے حکمرانوں کو پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) بکرم سنگھ کے بیان سے ہی کچھ سیکھ لینا چاہیے‘جس میں جنرل (ر) بکرم سنگھ نے اپنے ملک کی مودی سرکار اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان کو توڑنے کیلئے بھارت کو جنگ کی ضرورت ہے‘ نہ ہی دہشت گردی کروانے کیلئے اپنے لوگ بھیجنے کی۔ سابق بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ نے یہ کہہ کر پاکستانیوں بالخصوص ہمارے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے کہ ان کو پاکستان میں ہی ایسے لوگ میسر ہیں ‘جو پیسے لے کربھارت کیلئے کام کرتے ہیں اور بھارتی خفیہ ایجنسیاں ان لوگوں سے رابطے میں ہیں‘ لیکن ہمارے حکمران اور قومی ادارے ‘ سابق آرمی چیف جنرل (ر) بکرم سنگھ کے بیان کو سمجھنے کے باوجود بھی

اسے عالمی برادری میں ثبوت کے طور پر پیش کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ ایسے حالات میں پاکستانی عوام یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ ان کے ایسے حکمران‘ جن کی جائیدادیں یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ہیں‘ وہ پاکستان کی فکر کریں گے‘ اگر ایسا نہیں تو کیا ہمارے حکمران اپنی غیر ملکی دولت کو پاکستان لاکر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے استعمال کیوں نہیں کرتے؟ بات کسی سیاسی پارٹی کے عہدے داروں کی نہیں‘ بات تو سماجی ڈھانچے کی ہے‘ بات تووطن ِعزیز میں تیزی سے بڑھتی معاشی عدم مساوات کی ہے‘ ناانصافی اور ظلم کی ہے‘ جس کی وجہ سے سابق آرمی چیف جنرل (ر) بکرم سنگھ کے بقول ‘ انہیں پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے ایسے پاکستانی مل رہے ہیں اورجہاں تک فوج کا تعلق ہے تو وہ ہر محاذ پرجنگ لڑرہے ہیں‘ فوج کا کام تولڑنا ہے‘ مگر سوال پھر وہی ہے کہ ہمارے حکمران کیا کررہے ہیں؟دشمن کی فوجیں سر پر کھڑی ہوں‘ آر ایس ایس کا انتہا پسند وزیر اعظم مودی گیارہ دنوں میں پاکستان فتح کرنے کے اعلانات کر رہا ہو‘ تو ایسے میں ہمارے اداروں اور حکمرانوں کیا کیا کرنا چاہیے؟سابق آرمی چیف جنرل (ر) بکرم سنگھ کے ا س اعتراف کے بعد ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو سوچنا ہو گا کہ وہ کون لوگ ہیں‘ جنہیں ہر انڈین آرمی کا چیف پیسے دے کر خرید لیتا ہے اور پاکستان کے اندر جنہیں یہ پیسے دیئے جا رہے ہیں‘ وہ کس قسم کے کام کر رہے ہیں؟ انڈین آرمی کا مقابلہ پاکستان کی آرمی سے ہے ‘

جو اپنے سے پانچ گنا طاقتور دشمن کو آگے بڑھنے سے روکے ہوئے ہے اور اس فوج کے پیچھے پاکستان کے بیس کروڑ سے زائد عوام کی ڈھال ہے‘ تو کہیں دشمن کی کوشش یہ تو نہیں کہ عوام کی ڈھال کو کمزور کر دے‘ اس میں نقب لگاتے ہوئے مضبوط قلعے میں سوراخ کر دے۔اب‘ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ وہ کون سی لوگ ہیں‘ جو ہمیں اپنے قومی اداروں اسے متنفر کرنے کے مشن پر ہیں۔ادھردنیا کے چار طاقتور ترین ممالک نے پاکستان کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے اور ان ممالک نے مختلف محاذوں پر پاکستان کے اندر کہیں نقب زنی تو کہیں کھلم کھلا در اندازی شروع کر رکھی ہے اور اس کا طاقتور حملہ سوشل میڈیا کے ذریعے آج کل پشتون تحریک کے نام سے بھر پور طریقے سے شروع ہو چکا ہے‘ یہی وہ حملہ ہے‘ جہاں دشمن کی پہچان مشکل ہے ‘ کیونکہ ہائبرڈ وار کے نام سے جو شب خون مارا جارہا ہے‘ اس میں دشمن سامنے نہیں ہوتا اور اسے پہچاننا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہی وہ دشمن ہے ‘جس کے متعلق چینی مفکر سانتا ذو نے کہا ہے کہ ‘ ‘ اگر آپ دشمن کو بھی نہیں پہچانتے اور نہ ہی خود کو تو پھر ہر محاذ پر شکست مقدر بنتی ہے‘‘۔سابق آرمی چیف جنرل (ر) بکرم سنگھ نے ” پیسہ پھینک تما شا دیکھ‘‘ کا وار کرتے ہوئے اپنی خباثت ظاہر کی ہے اور نہ نظر آنے والے اورہمارے درمیان رہنے والے دشمن کا ذکر کر دیا ہے‘ توایسے میں پاکستان کی سالمیت کے درپے چار ممالک کی مختلف ناموں کی تنظیموں نے اپنے وار کرنا شروع کر دئیے ہیں‘ تاہم دشمن اپنے اربوں روپے خرچ کرنے کے با وجود سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے ان ہزاروں گمنام مجاہدوں کے ہاتھوں شکست کھا رہا ہے‘ انہی گمنام مجاہدوں کی ہمت اور کوشش سے ان چاروں ممالک کے تیار کئے گئے نقشے پھاڑ کر ان کے منہ پر مارے جا رہے ہیں اور یہ کام انجام دینے والے گمنام سپاہیوں کا اس معاشرے میں کوئی مقام نہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں‘ جو اپنے موبائل اپنی ذاتی جیب اور اپنے وقت سے دشمن کی سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی جنگ کا ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دے رہے ہیں ‘ان میںعام طالب علم ‘ عام دکاندار‘ نوکریوں کی تلاش میں سر گرداں غریب اور متوسط گھرانوں کے بیرو زگار نوجوان اور دنیا بھر کے ممالک میں مقیم پردیسی شامل ہیں۔لہٰذا الحمد ﷲ جب کل کو تاریخ لکھی جائے گی ‘تو دشمن اپنے زخم چاٹتے ہوئے یہ کہنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اس نے پاکستانیوں کو اس کے قومی اداروں کے خلاف اُکسانے ‘ان کے خلاف نفرت پھیلانے اورایک دوسرے کے مقابل لانے کی ہر ممکن کوشش کی‘اس سلسلے میں اپنے کروڑوں ڈالر خرچ کر ڈالے‘ لیکن سوائے کسی کسی جگہ‘ ہلکی پھلکی کامیابی کے اس کے ہاتھ کچھ نہ آ سکا۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.