ایک خوبرولڑکی سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کر رہی تھی اور ملک الموت آپہنچا، سبق آموز واقعہ

فرمایا گیا ہے۔ کہ جو تکبر کرتے ہے وہ اللہ سبحان تعالی کو پسند نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ عرب ملک میں ایک لڑکی کے ساتھ پیش آیا۔ ایک نوجوان خوبرولڑکی ایک سپر مارکیٹ میں اپنے جسم کی نمائش کرتے ہوئے فتنہ انگیز انداز میں جارہی تھی . اس کے انداز میں ایسی خود نمائی اور خود ستائی تھی جیسے دنیا اسی کیوجہ سے پیدا کی گئی ہو. وہاں سے ایک نیک اور صالح نوجوان گزر رہا تھا اس نے

ازراہ ہمدردی کہا: میری بہن ! اپنی اس روش سے باز آجاؤ اگر اسی حالت میں مرگی۔ یعنی اس حالات میں ملک الموت تمہارے پاس آپہنچا تو، اللّٰہ کو کیا جواب دو گی؟ اس کے جواب میں وہ مغرور خوبرولڑکی کہنے لگی. اگر تم میں جرات ہے تو ابھی اپنا موبائل نکالو اور اپنے رب سے کال ملاؤ کہ وہ ملک الموت کو بھیجے. وہ نوجوان کہتا ہے کہ : اس نے ایسی ہولناک بات کہی تھی کہ مجھے ڈر ہوا کہیں اس بازار کو ہی نہ ہم پر الٹا دیا جائے. میں ڈرتا ہوا جلدی سے وہاں سے نکلا. جب میں بازار کے کنارے پر پہنچا تو میں نے اپنے پیچھے چیخ وپکار اور آہ وبکا کی آوازیں سنیں . میں وآپس مڑا تو دیکھا کہ ایک جگہ لوگ اکھٹے ہیں، یہ وہی جگہ تھی جہاں میری اس لڑکی سے بات ہوئی تھی. میں وہ منظر دیکھ کر ٹھٹک گیا. وہ لڑکی ٹھیک اُسی جگہ پر مردہ حالت میں پڑی تھی، جہاں اس نے ملک الموت کو بلانے کا چیلنج کیا تھا. میں تو اس چیلنج کے بعد فوراً وہاں سے نکل گیا تھا، لیکن لڑکی اسی وقت منہ کے بل گری اور دم توڑ دیا.کیونکہ ملک الموت آپہنچا تھا. (آئین القلوب، مصطفیٰ کامل) قارئین کرام! یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عرب ملک میں پیش آیا تھا. اس واقعہ کو قریباً بارہ پندرہ سال گزرے ہونگے، جب یہ رونما ہوا تو اس کی بازگشت مقامی اخبارات اور مجالس میں سنائی دی تھی. بعض اوقات انسان تکبر اور جوانی کے نشے میں یا دولت واقتدار کے گھمنڈ میں بےحد غلط باتیں منہ سے نکال دیتا ہے، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ عین ممکن ہے وہ قبولیت دعا کا وقت ہو. اور اس کے الفاظ پر رب کی طرف سے پکڑ بھی ممکن ہے، اس لئے ہمیشہ منہ سے اچھی بات نکالنی چاہئے. دعاؤں کی قبولیت کے سنہرے واقعات” سے ماخوذ. اور ہمیں تکبر نہیں کرنا چاہیے

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *