پشاور کے ایک بزرگ نے پیشاب کی جگہ قہوہ کوبطورسیمپل بجھوا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں صحت کے عبے کا بُہت بُرا حال ہے کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے جس کی جو مرضی میں آئے وہ کرتا پھرتا ہے کسی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے نجی لیبارٹریاں ہر شہر میں موجود ہیں جو اپنی من مرضیاں کر رہی ہیں ٹیسٹ کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

جبکہ رزلٹ ہر لیبارٹری کا الگ الگ ہوتا ہے۔خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت جو کہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں تبدیلی کے بڑے دعوے کرتی نظر آتی ہے اس کا اندازہ اس خبر سے لگایا۔ جاسکتا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک بزرگ شہری نے جعل سازی کا پتہ لگانے کے لئے تین سے چار سے لیبارٹریز میںپیشاب ٹیسٹ کے لئے نمونے کے طور پر قہوہ دے دیا ۔بزرگ شہری نے کچھ گھنٹوں بعد رپورٹ وصول کی تو وہ حیران رہ گیا کہ مریض کو شدید گردوں کا مسئلہ لاحق ہے اورگردے کےذرات پیشاب کے ذریعے آ رہے ہیں۔ لہذا اسے مہنگی ادویات لکھ کر دی گئیں ۔بتایا جا رہا ہے کہ دس دس ہزار روپے میں ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں ۔ ایک میڈیکل رپورٹ میں بزرگ کو ہیپاٹائٹس سی بھی بتایا گیا ہے ۔ جب سی ایم ایچ سے ٹیسٹ کروایا گیا تو اس میں کوئی بیماری نظر نہیں آئی ۔ جس سے شہرکی بڑی لیبارٹریوں کا پول کھل گیا، شہری نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جگہ جگہ کھلی ان لیبارٹریوں کو چیک کیا جائے۔ یہ لیبارٹریاں سادح لوح عوام کو لوٹ رہی ہیں ان کے خلاف سخت ایکشن وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.