اسکول میں سب لڑکیوں کی تلاشی

بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کے ایک سکول میں اساتذہ نے اس وقت بے حیائای کی حد کر دی جب ہیڈ ٹیچر کے خلاف ایک قابل اعتراض تحریر سامنے آنے پر سزا کے طور پر دو جماعتوں کی 88 طالبات کو بر ہنہ کردیا گیا۔

خلیج ٹائمز کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ پاپم پاری ضلع کے کستور با گاندھی بلیکا ودھیالہ سکول میں 23 جولائی کے روز پیش آیا۔ تو ہین آمیز سلوک کا نشانہ بننے والی لڑکیاں چھٹی اور ساتویں جماعت کی طالبات ہیں۔ دونوں جماعتوں کی طالبات کو سارے سکول کے سامنے بر ہنہ کیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق سکول میں ایک کاغذ ملا تھا جس پر ہیڈ ٹیچر اور ایک طالبہ کے بارے میں فاحش الفاظ لکھے ہوئے تھے، لیکن یہ پتہ نہ چل سکا کہ یہ الفاظ کس نے لکھے تھے۔ ٹیچرز کو شبہ تھا کہ چھٹی یا ساتویں جماعت کی کسی طالبہ نے یہ کام کیا ہے۔
جب ان دو جماعتوں سے پوچھ گچھ کی گئی تو کسی نے تسلیم نہ کیا کہ یہ کام کسی نے کیا ہے، جس پر دونوں جماعتوں کی تمام طالبات کو سارے سکول کے سامنے بر ہنہ کرکے سزا دی گئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.