صدر نے اپنی گاڑی رکوا کر جنازے کو کندھا دیا

صدر نے جنازے کو کندھا دیا

وہ واقع 16 نومبر 1983 کا ہے جب صدرِپاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے سیکورٹی کے تمام نظام کو بالائت طاق رکھتے ہوئے ایک مسلمان کے جنازے کو کندھا دیااور اپنے حسن اخلاق کی وجی سے جنازے میں شریک ہزاروں افراد کے دل جیت لئے، جنرل ضیاء الحق اسلام آباد جا رہے تھے کہ راستے میں ایک جنازہ آرہا تھا یہ جنازہ حاجی ولایت خان کا تھا جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے جنازہ جب قریب آیا تو صدر کے سیکورٹی کے عملے نے ہونٹر بجا کر راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تو صدر پاکستان ضیاء الحق نے انہیں منع کر دیااور خود اپنی کار سے اتر کر جنازے کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ تک گے؛ اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گے
..ایسے تھے ہمارے لیڈر.. یہ واقعہ 16 نومبر 1983 کا ہے جب صدرِپاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے سیکورٹی کے تمام نظام کو بالائت طاق رکھتے ہوئے ایک مسلمان کے جنازے کو کندھا دیااور اپنے حسن اخلاق کی وجی سے جنازے میں شریک ہزاروں افراد کے دل جیت لئے، جنرل ضیاء الحق اسلام آباد جا رہے تھے کہ راستے میں ایک جنازہ آرہا تھا یہ جنازہ حاجی ولایت خان کا تھا جنازے میں ہزاروں افراد شریک تھے جنازہ جب قریب آیا تو صدر کے سیکورٹی کے عملے نے ہونٹر بجا کر راستہ صاف کرنے کی کوشش کی تو صدر پاکستان ضیاء الحق نے انہیں منع کر دیااور خود اپنی کار سے اتر کر جنازے کو کندھا دیا اور جنازہ گاہ تک گے؛ اور وہاں سے فارغ ہونے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گے
..ایسے تھے ہمارے لیڈر..

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *