عجیب و غریب رسم پر چلنےوالا قبیلہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک ایسا قبیلہ جہاں لڑکی کی شادی صرف ایک اکیلے مردسے نہیں بلکہ اس کے تمام بھائیوں سےبھی ہوگی۔ایک بیوی کے پانچ پانچ شوہر، ہررات ایک الگ شوہر کے ساتھ پیدا ہونے والا بچہ کس کا ہوگا، کون جانے،کس کو خبر،شمالی ہندوستان کی زمانہ قدیم کی وہ رسم جو21ویں صدی میں بھی چلی آرہی ہے۔۔

شادی کا تصورآتے ہی ہمارے ذہن میں ایک مرد،ایک عورت اور ایک نئے خاندان کانقشہ ابھرآتا ہے ۔دین اسلام میں توایک مرد کو چار شادیوں تک کی اجازت دی گئی ہے ۔دنیا بھر کے باقی مذاہب میں بھی شادی مرد اورعورت کے قانونی بندھن کا نام ہے اوراس کا تصورموجود ہے۔لیکن کیا آپ سوچ بھی سکتے ہیں کہ کسی خاتون کے پانچ پانچ شوہر ہوں۔وہ سبھی باہم مل کر ایک ہی گھرمیں رہ رہے ہوں۔اوروہ خاتون ان سبھی شوہروں کےساتھ باری باری سو کر مشترکہ بچے کو بھی جنم دے دے۔شاید ایسی بات سوچتے ہی سب کے ہاتھ کانوں کو لگ جائیں گے ۔لیکن ہندوستان کے شمالی پہاڑی علاقوں میں آباد کچھ قبائل میں صدیوں پرانی یہ رسم آج بھی چلی آرہی ہے۔شمالی ہندوستان کی ریاست اترا کھنڈ کےعلاوہ تبت کی وادیوں میں آباد ان قبائل نے آج تک اس انتہائی قبیح رسم کو ختم نہیں ہونے دیا۔ ایسا ہی ایک خاندان راجو ورما کا ہے۔ جو پانچ بھائیوں کی اکلوتی بیوی ہے۔ ورما خاندان ریاست اترا کھنڈ کے شہر ڈیرہ دھو ن کے ایک دیہی علاقے میں رہتا ہے۔21سالہ راجو نےایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ وہ اپنے پانچ شوہروں او ر ایک18ماہ کے بچے کے ساتھ ایک کمرے والے ایک گھر میں رہتی ہے۔راجو کے پانچ شوہروں میں 28سالہ شانت رام ورما،32سالہ بجو ورما،26سالہ گوپال ورما،21سالہ گڈو ورمااور19سالہ دنیش ورما شامل ہیں۔ راجو ورما کا کہنا تھا۔

کہ وہ شادی سے پہلے سے ہی جانتی تھی کہ وہ ایک ایسے گھر میں جا رہی ہے جہاں پانچ بھائی اس اکیلی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔راجو نےیہ بھی بتایا کہ خود اس کی ماں بھی تین بھائیوں کی مشترکہ بیوی تھی۔ اس لئےان قبائل کی خواتین کےلیے یہ سب کچھ کوئی نئی یاحیران کن بات نہیں ہے۔ابتدائی طو ر پر رراجو ورما کی شادی چار سال قبل گڈو ورما کے ساتھ ہوئی۔جس کے بعدباری باری بجو، شانت رام ،گوپال اور دنیش سے بھی راجو کی شادی کی باقاعدہ رسمیں کی گئیں۔ راجو کی پانچویں اور آخری شادی دنیش سے کی گئی۔ کیونکہ پہلے دنیش کی عمرکم تھی،لیکن جیسے ہی وہ 18سال کا ہوا ، وہ بھی شادی کرکے راجو کے شوہروں کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ پہاڑی علاقے کےاس محنت کش خاندان کے گھر میں کوئی چارپائی بھی موجود نہیں ہے، اس لئے یہ تمام افراد فرش پر رضائیاں اوڑھ کر سوتے ہیں۔ سب بھائیوں کی یہ اکیلی بیوی ہر رات ایک الگ شوہر کے ساتھ سوتی ہے۔راجو کا کہناہے کہ وہ خود بھی نہیں جانتی کہ اس کے اکلوتے بچے کا اصل باپ کون ہے۔راجو سے سب سے پہلی شادی کرنے والےاور قانونی طور پر اس کے واحد کفیل گڈو ورما کا کہنا ہے کہ ہم سب بھائی باری باری راجو کے ساتھ ہم بستری کرتے ہیں۔ لیکن مجھے کبھی جلن محسوس نہیں ہوئی۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم سب کے سب بہت خوش ہیں۔راجو نے بتایا کہ اسے باری باری سب بھائیوں کے ساتھ رات گزارنا ہوتی ہے ۔لیکن وہ خوش ہے کیونکہ اسے ایک شوہر رکھنے والی بیویوں کی نسبت زیادہ توجہ اور پیار مل جاتاہے۔پولی وانڈری یعنی ایک عورت کے کئی شوہر رکھنے کی روایت کا تعلق ہندوئوں کی سنسکرت کے زمانے کی مقدس نظم مہابھارت سے جوڑا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچا کے ایک بادشاہ کی بیٹی درائوپدی نے بھی پانچ بھائیوں سے شادی کی تھی۔یہ رسم ختم ہوتے ہوتے اب ہمالیہ کے پہاڑوں کے نزدیک واقع ان ہندوستانی اور چینی دیہاتوں تک محدود رہ گئی ہے جہاں پر اب بھی پرانی رسموں پرچلنے والے قبائل آباد ہیں۔یہ قبائل پولی وانڈری جیسی اس عجیب و غریب رسم کا دفاع کرنے کےلئے اس کے دو جواز فراہم کرتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ ایک خاتون کی کسی ایک گھرکے کئی بھائیوں سے شادی کرنے سے وارثتی زمین اس خاندان سے باہر جانے سے بچ جائے گی۔ دوسرا جواز یہ کہ یہ رسم ان قبائلی علاقوں کےنوجوانوں کےلئے بیوی تلاش کرنے میں آسانی پیدا کردیتی ہے جہاں پر لڑکیوں کی پیدائش کی شرح لڑکوں کی نسبت بے حد کم ہے۔قانوناً جرم ہونے کے باوجود ان قبیلوں نے نہ صرف اس رسم کی اجازت دے رکھی ہے بلکہ کچھ قبائل تو اس رسم پر اتنی سختی سے چلتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اس رسم کی وجہ سے شادی سے ہی انکار کردے تو اسے قبیلے سے نکال دیا جاتا ہے۔اب رہ گئی یہ بات کہ وراثت کے تنازعات سے بچنے کےلئے بچے کی ولدیت کا پتہ کیسے چلایاجائےتو اس کےلئے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کےکچھ حالیہ واقعات سامنے آئے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.