کو کوئی نہ کر سکا وہ پاکستان نے کر دکھایا۔۔!! کورونا کے علاج کے لیے پاکستانی ڈاکٹروں کی وہ ایجاد جسے امریکہ نے بھی رجسٹرڈ کر لیا، ڈاکٹر طاہر شمسی کی پوری دُنیا میں دھوم

کراچی(نیوز ڈیسک) امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(FDA ) نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز میں کورونا سے صحت یاب یونے والے افراد کے پلازمہ نکلنے کی passive ایمونائزیشن تکنیک کو رجسٹرڈ کرلیا جو پاکستان کے ماہرین کے لیے اعزاز کی بات ہے۔’ایکسپریس ٹریبون ‘ سے بات چیت کرتے ہوئے پروفیسر طاہر شمسی

نے بتایا کہ پاکستان میں کیے جانیوالے Passive immunisation Clinical کلینکل ٹرائل کے پرٹوکول کو FDA نے رجسٹرڈ کرلیا ہے جبکہ مذکورہ تیکنیک کے پروٹوکول سے عالمی ادار صحت WHO کو مطلع کردیا ہے۔ڈاکٹر طاہر شمسی نے بتایا کہ کسی بھی تیکینک کو مریضوں پر استعمال کرنے سے قبل منظور شدہ عالمی اور ملک کے متعلقہ اداروں سے منظوری اوررجسٹرڈ کرانا طبی ضابطہ اصول ہوتے ہیں، ان ملکی اور عالمی اداروں اداروں کی منظوری کے بعد ہی انسانوں پر تیکنیک شروع کی جاتی ہے۔پروفیسر ڈاکٹرطاہر شمسی نے کراچی میں صحت یاب ہونے والے کورونا کے مریضوں سے پلازمہ نکلنے کی خوشخبری دیتے ہوئے بتایا کہ جن صحت یاب ہونے والے افراد سے پلازمہ حاصل کیا گیا ہے ان کے پلازمہ پر تحقیق مکمل کرلی گئی ہے جس میں یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ پلازمہ دینے والوں کا مستقبل میں دوبارہ کورونا وائرس سے متأثر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا اور خوش آیند بات ہے۔دریں اثنا ہفتے کو صوبائی وزیرِصحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی زیرِ صدارت صوبائی کمیٹی برائے کورونا وائرس کے تجرباتی علاج کیلیے مریضوں سے حاصل کردہ پلازما سے پیسیو امیونائزیشن کمیٹی کااجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈاکٹر اعجاز خان زادہ، سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دْر ناز جمال،این آئی بی ڈی کراچی کے ڈین ڈاکٹر طاہر شمسی، پروفیسر خالد ہاشمی، پروفیسر سلمان عادل اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں پیسیو امیونائزیشن کے تجرباتی علاج کیلیے صوبہ سندھ کیلیے کورونا وائرس کے پلازما سے علاج کیلیے حکومت سے منظور شدہ تمام اداروں کو محکمہ صحت کے زیرِ نگرانی کام کرنے کے

فریم ورک کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس میں اس کلینیکل ٹرائل کیلیے پلازما عطیہ کرنے والے افراد کی فلاح و بہبود کیلیے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور سفارشات کو پروٹوکول کا حصہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔اجلاس کے شرکا اور ماہرین طب نے اطمینان کا اظہار کیا کہ این آئی بی ڈی میں کی جانے والی طبی تحقیق میں کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کے پلازما میں دوبارہ کورونا وائرس کے مستقبل میں کوئی امکانات نہیں جو ایک خوش آئند بات ہے،اجلاس کے شرکا کو صحتیاب ہونے والے مریضوں سے پلازما کو حاصل کرنے کیلیے کراچی میں این آئی بی ڈی،جام شورو میں لیاقت یونی ورسٹی اور سکھر میں ریجنل بلڈ سینٹر کو ذمہ داری دینے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔سندھ بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر دْرِ ناز جمال نے این آئی بی ڈی کو جام شورو اور سکھر میں اندرون سندھ کے مریضوں کیلیے پلازما جمع کرنے کی ٹریننگ دینے اور سینٹر شروع کروانے کی ہدایت کی۔نیشنل فوکل پرسن برائے پیسیو امیو نائزیش ڈاکٹر عرشی نازنے کمیٹی کو بتایا کہ اگلے ہفتے سے جامشورو میں پلازما جمع کرنے کا کام شروع کروادیا جائیگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں ان سفارشات کو سندھ حکومت کی مقرر کردہ فوکل کمیٹی برائے کورونا وائرس کو اگلے ہفتے پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ انکی منظوری کے بعد پورے صوبے میں پلازما کا استعمال یقینی طور پر مؤثر بنایا جاسکے۔کورونا وائرس کے علاج کیلیے مخصوص اسپتالوں کے سربراہان، فوکل پرسنز اور کورونا وائرس کا علاج کرنے والے فزیشنز کو پیسیو امیونائزیشن کے استعمال کے صحیح طریقے کی رہنمائی کی جائے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.