دنیائے کرکٹ کی ایک اور تیز ترین ففٹی بنانے کا نیا ریکارڈ کس ملک کے کرکٹر نے قائم کردیا ؟ شائقین کرکٹ کے کام کی خبر

ڈربن(ویب ڈیسک) کرکٹ کے کھیل میں آئے روز کوئی نہ کوئی نیا ریکارڈ بنتا رہتا ہے اور کوئی پرانا ریکارڈ ٹوٹ جاتا ہے۔ شائد اسی لئے تو کہتے ہیں کہ ریکارڈ بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں۔ اب کرکٹ کے میدان سے ایک اور تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔

کوئنٹین ڈی کک نے ٹوئنٹی 20 کرکٹ میں تیز ترین ففٹی اسکور کرنے والے جنوبی افریقی پلیئر کا اعزاز حاصل کرلیا۔ کوئنٹین ڈی کک نے انگلینڈ کے خلاف 17 بالز پر اپنے انفرادی اسکور کو 50 تک پہنچایا، مجموعی طور پر ان کی یہ کرس گیل کے برابر چھٹی تیز ترین ٹی 20 ففٹی ہے۔ اس فہرست میں یوراج سنگھ صرف 12 بالز پر 50 رنز بناکر ٹاپ پر موجود ہیں، آسٹریا کے مرزا احسان نے 13 گیندوں پر 2019 میں لکسمبرگ کیخلاف ففٹی بنائی، نیوزی لینڈ کے کولن منرو (14)، سعودی عرب کے فیصل خان (15) اور ویسٹ انڈیز کے شائی ہوپ (16) موجود ہیں۔ دوسری جانب کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستان ریلوے نے ٹرین آپریشن محدود یا معطل کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔کورونا وائرس کے خوف سے سیکڑوں مسافروں نے اپنی ریزرویشن منسوخ کرا دی ہے۔ گزشتہ دو روز میں 35سے 40لاکھ روپے ریفنڈ کیے گئے جس کے بعد آئندہ آنے والے دنوں میں لاہورسے کراچی ، کوئٹہ ، ملتان ، رہڑی ، سکھر ، پشاور اور دیگر شہروں کو جانے والی مسافر ٹرینیں خالی ہونے کا خدشہ ہے۔ صورتحال سے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو آگاہ کر دیا گیا ہے ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ایوی ایشن ڈویڑن نے 21 مارچ 2020 سے پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجے سے بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کا داخلہ ائیرپورٹس پر کرونا وائرس ٹیسٹ کی مصدقہ رپورٹ کی فراہمی سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ ترجمان ایوی ایشن ڈویژن کے مطابق اس بات کو لازم قرار دیا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافر نے اپنا ٹیسٹ پرواز سے 24 گھنٹے قبل کروایا ہو۔ٹیسٹ کی رپورٹ میں مسافر کا نام اور پاسپورٹ نمبر شامل ہونا ضروری ہے، اس حوالے تمام ائیر لائنز کو واضح طور ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ پاکستان کی حدود میں داخلے کی اجازت صرف اور صرف کرونا وائرس کی مصدقہ رپورٹ کی فراہمی کی صورت میں دی جائیگی اور یہ شرط 4 اپریل تک برقرار رہے گی۔ ٹیسٹ رپورٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ہیلتھ ڈیکلیریشن فارم بھی جمع کروانا لازم ہے۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر عمل نہ کرنے والوں کو اب ایک سے دو سال تک قید اور جرمانہ کی سزا ہوگی۔محکمہ ریلیف کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق خیبر پختونخواہ حکومت نے صوبے کو کورونا وائرس سے محفوظ بنانے کے لئے مزید سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی یا صوبائی حکومت کی ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.