عمران خان چھا گیا ۔۔۔ دیہاڑی دار طبقے کو ریلیف پیکج دینے کے بعد سفید پوش حضرات کے لیے نئی سکیم متعارف، ان کو کتنی رقم دی جائے گئی اور طریقہ کار کیا ہے ؟ جان کر آپ بھی خوشی سے جھوم اٹھیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دیہاڑی دار طبقے کو الحمداللہ ہم نے اس قابل کر دیا کہ ان کے بچے اور وہ گھر میں تین وقت کی روٹی کھا سکیں لیکن ہم نے جو 12000 کی رقم ان لوگوں کو دی اس میں جو شرائط ہم نے رکھی تھیں اس میں بہت

سارے مڈل کلاس لوگ نہیں آتے لیکن وہ بھی کورونا متاثرین کی صف میں کھڑے حکومت کی جانب نظریں جمائے کھڑے ہیں ۔ اب ہمیں ان کے لیے کچھ کرنا ہے ۔ ان کے لیے ہمیں خصوصی رقم یا پیکج تیار کرنا ہے جس پر کام جاری ہے انشااللہ ان کے لیے بھی ہم نادرا کی مدد سے ایک مکمل پروگرام تشکیل دے رہے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سفید پوش طبقہ ماننگنے سے بھی گریز کرتا ہے حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کورونا کی روک تھام اور معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں توازن قائم رکھا جائے، تاجر برادری کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے، جہاں تاجر برادری مشکلات کا شکار ہے وہاں متعلقہ صوبائی حکومت کے تعاون سے مسائل حل کیے جائیں،آزاد ملکوں میں طاقت کے استعمال کی بجائے قومی اہمیت کے معاملات میں عوام کو ترغیب دیکر ان کے تعاون کو یقینی بنایا جاتا ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارا ہراول دستہ ہے اور انکی ضروریات پورا کرنااولین ترجیح ہے،کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پیر کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور روک تھام کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ اجلاس لیا گیا اجلاس میں وفاقی وزارء حماد اظہر، اسد عمر، مخدوم خسرو بختیار، سید فخر امام، معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان، چئیرمین این ڈی ایم اے و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے وزیرِ اعظم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لئے مختلف زیر غور تجاویز پر بریف کیا۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت ملک میں آٹھ ہزار سے زائد ٹیسٹ روزانہ کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اس ماہ کے آخر میں بیس ہزار ٹیسٹ یومیہ کرنے کا ہدف حاصل کر لیا جائیگا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ہسپتالوں کی استعدادِ کار کو بڑھانے کے حوالے سے بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں سامنے آنے والی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ تیسری کھیپ میں چار سو آٹھ ہسپتالوں کو کورونا وائرس سے متعلق سامان بھجوایا گیا ہے، چوتھی کھیپ میں اس سامان کو دگنا کر دیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ کورونا کی روک تھام اور معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں توازن قائم رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کی مشکلات کا مکمل ادراک ہے اور وفاقی حکومت کوشاں ہے کہ حکومت کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں جہاں بھی تاجر برادری مشکلات کا شکار ہے وہاں متعلقہ صوبائی حکومت کے تعاون سے ان کے مسائل حل کیے جائیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کرونا کے خلاف سب سے موثر حکمت عملی سوشل ڈسٹنسنگ (سماجی فاصلوں) کو یقینی بنانا ہے۔ اس ضمن میں عوام کو سماجی فاصلوں کی اہمیت کے بارے میں عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے تاکہ ان کے تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ آزاد ملکوں میں طاقت کے استعمال کی بجائے قومی اہمیت کے معاملات میں عوام کو ترغیب دیکر ان کے تعاون کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اور طبی عملہ ہمارا ہراول دستہ ہے اور انکی ضروریات پورا کرنا اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے آج علمائے کرام سے ہونے والی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ امر نہایت باعثِ اطمینان ہے کہ مساجد اور عبادات کے حوالے سے لائحہ عمل ملک کے جید علمائے کرام اور مشائخ کے مکمل اتفاق رائے سے طے پایا ہے اس لائحہ عمل پر عمل درآمد کی ذمہ داری علمائے کرام نے خود لی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.