اسے کہتے ہیں دنیا میں حساب کتاب دے کر جانا۔۔۔۔ اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں منتقل کرنے کے بعد عمران حکومت نے جاتی امرا کے حوالے سے بڑی خبر بریک کر دی

سیالکوٹ(ویب ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے والوں کو جوابدہ ہونا ہوگا چاہے وہ اسحاق ڈار کا گھر ہو یا جاتی امرا ۔سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ناجائز ذرائع سے اثاثے

بنانے والوں کو جوابدہ ہونا ہو گا، ماضی میں طاقتور نے قانون کو اپنے مفاد کے ساتھ جوڑا ہوا تھا، وزیراعظم نے کہا کہ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچاؤں گا، گٹھ جوڑ کے خلاف وزیراعظم کی جدوجہد آخری مراحل میں داخل ہورہی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ گلے سڑے نظام میں اصلاحات کے لیے چیلنجز درپیش ہیں، وزیراعظم کی اصلاحات پالیسی کو مافیا ناکام بنانے کی کوشش کررہا ہے، ملک میں کچھ نیٹ ورک آٹا اور چینی کے بحران کے لیے کام کر رہے ہیں، حکومت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ گٹھ جوڑکیا ہے، وزیراعظم نے آٹا بحران پرصوبائی حکومتوں کومتحرک کیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی کوٹھی کو پنجاب حکومت نے بے گھر افرادکے لیے وزیراعظم کے منصوبے کا حصہ بناتے ہوئے پناہ گاہ میں بدل دیا، کہا جا رہا ہے کہ یہ پہلی ایئرکنڈیشنڈ پناہ گاہ ہوگی ، اس اقدام کی مسلم لیگ ن نے مذمت کی اور اسے توہین عدالت قرار دیا، عدالت کی طرف سے اس کی نیلامی کے خلاف سٹے آیا ہوا ہے ، ماضی میں بھی مسلم لیگ ن کی قیادت زیرعتاب رہ چکی ہیں اور مرکزی قیادت کے گھر بھی سرکاری تحویل میں آچکے ہیں اور اب سینئر صحافی ، کالم نویس اور معروف شاعر منصور آفاق نے انکشاف کیا کہ نوازشریف کے ماڈل ٹائون والے گھر کو فلاحی ادارے کا دفتر بنا دیا گیا تھا۔ روزنامہ جنگ میں منصور آفاق نے لکھا کہ ’’پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف کے ماڈل ٹائون والے گھر میں فلاح و بہبود کے سرکاری ادارے کا دفتر بنایا گیا تھا۔ اُس وقت میں نے اپنے ایک بیورو کریٹ دوست سے پوچھا تھا کہ اس خوبصورت محل نما کوٹھی کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا ہے۔ اسے کسی اور کام کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا تھا تو اس نے ہنس کر کہا تھا ’’اوپر والوں کو شاید اس عمارت کی اینٹوں اور سیمنٹ سے غریبوں کے پسینے کی مہک آتی ہے‘‘۔ اس وقت جب اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو ’پناہ گاہ‘ بنا دیا گیا ہے، اس کے کمروں میں بےگھروں، ناداروں، غریبوں کے بستر لگا دیے گئے ہیں تو میرے ذہن میں وہی سوال گونجا۔ جواب تو اِس سوال کا بھی وہی ہے۔ جو مجھے ماضی میں ملا تھا۔اسحاق ڈار نے اِس عمل کو انتقام قرار دیا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.