پاکستا ن میں چینی کا بُحران کیوں پیدا ہوا؟

اسلام آباد( مانیرینگ ڈیسک) وفاقی وزیر زرتاج گل وزیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 82 شوگر ملیں ہیں، ان میں سے 18 فیصد زرداری صاحب کی ہیں، 12 فیصد شریف فیملی کی ملکیت میں ہیں، باقی 16 فیصد آصف زرداری کے دوستوں کی ملکیت ہیں، ان میں سے صرف 4 شوگر ملیں ایسی ہیں

جو جہانگیر خان ترین اور خسرو بختیار صاحب کی ہیں لیکن اس میں بھی مریم نواز کے سمدھی چوہدری منیر کے شیئرز ہیں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پپروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے زرتاج گل وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا ہے اور کہاں یہ جا رہا ہے کہ شوگر ملوں کے مالک صرف جہانگیر خان ترین اور خسرو بختیار ہیں، اگر یہ چینی کو اسٹاک کرنا چھوڑ دیں تو چینی کا بحران ختم ہوجائے گا لیکن اب میں بتای ہوں کہ اصلیت کیا ہے، پاکستان میں 82 شوگر ملیں ہیں، ان میں سے 18 فیصد زرداری صاحب کی ہیں، 12 فیصد شریف فیملی کی ملکیت میں ہیں، باقی 16 فیصد آصف زرداری کے دوستوں کی ملکیت ہیں، ان میں سے صرف 4 شوگر ملیں ایسی ہیں جو جہانگیر خان ترین اور خسرو بختیار صاحب کی ہیں اس میں بھی 18 فیصد شیئرز مریم نواز صاحبہ کے سمدھی چوہدری منیر کے ہیں، یہ کوٹہ اور شیئر جب ہماری حکومت نہیں تھی اس وقت انکو دیا گیا، جتنی بھی پاکستان میں شوگر ملیں ہیں ان میں جہانگیر ترین شوگر مل میں کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ خوش ہیں، وہاں ٹائم پر تنخواہ دی جاتی ہے، کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ جہانگیر ترین خان نے اپنا فائدہ لے لیا ہو اور ورکر کو فائدہ نہ پہنچے، یہ ایک مافیا ہے جو پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کی وجہ سے پاکستانی میں چینی کا بحران پیدا ہوا ہے لیکن حقائق اس سے برعکس ہیں۔ زرتااج گل وزیر کا مزید کیا کہنا تھا؟ ویڈیو آپ بھی دیکھیں :

Sharing is caring!

Comments are closed.