انا للہ وانا الیہ راجعون۔!!! پاکستانی صحافت کا قابلِ فخر نام۔۔۔ معروف صحافی انتقال کر گئے

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان کے معروف و سینئر صحافی، دانشور، شاعر، ترقی پسند ادیب اور آزادئ صحافت کے علمبردار، جناب احفاظ الرحمن آج 12 اپریل 2020 کی صبح، طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔ اِنّاللہ واِنّااِلیہِ راجعون۔ آپ 4 اپریل 1942 کے روز جبل پور (موجودہ بھارت) میں پیدا ہوئے۔

1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ احفاظ الرحمن صاحب اپنے کالج کے زمانے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم ’’نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ (این ایس ایف) میں شامل ہوئے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کی تعلیمی اصلاحات کے خلاف احتجاج میں پیش پیش رہے۔ بعد ازاں جب ایم اے صحافت کی غرض سے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے نثر اور نظم کے ذریعے ترقی پسند افکار عام کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ کچھ عرصے تک لیکچرار کی عارضی ملازمت کے بعد پیشہ ورانہ صحافت میں قدم رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ’’کراچی یونین آف جرنلسٹس‘‘ کے سرگرم رُکن بھی بن گئے۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء میں ان پر پابندیاں عائد کی گئیں جن کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک بیروزگار رہے۔ تاہم وہ 1985 میں بیجنگ، چین کی ’’فارن لینگویج پریس‘‘ سے وابستہ ہو کر چین چلے گئے، جہاں سے وہ 1993 میں واپس پاکستان آئے اور روزنامہ جنگ سے بطور میگزین ایڈیٹر وابستہ ہوئے۔ 2002 میں روزنامہ جنگ کو خیرباد کہہ کر آپ نے روزنامہ ایکسپریس میں میگزین ایڈیٹر کی ذمہ داری قبول کرلی۔ چند سال قبل وہ گلے کے کینسر میں مبتلا ہوگئے جس کے بعد ان کی صحت بتدریج گرتی چلی گئی، جس کی بناء پر بالآخر انہوں نے 2018 میں صحافت کو مکمل طور پر خیرباد کہہ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کرلی۔ جناب احفاظ الرحمن کے خاندانی ذرائع اور حلقہ احباب کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں سے ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی تھی اور وہ اسپتال میں داخل تھے۔ تاہم ایک ہفتہ قبل ڈاکٹروں نے بھی جواب دے دیا جس کے بعد انہیں اسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا۔ اسی علالت کے باعث 11 اور 12 اپریل 2020 کی درمیانی شب، تقریباً سوا چار بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ احفاظ صاحب کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے جبکہ ان کی اہلیہ مہناز رحمن بھی حقوقِ نسواں کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں اور عورت فاؤنڈیشن کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.