اچھا تو یہ بات تھی۔۔!! عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت صفر ڈالر سے بھی کم، مگر پاکستان اس کم قیمت سے فائدہ کیوں نہیں اُٹھا سکتا؟ بڑی وجہ سامنے آگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت صفر ڈالر سے بھی کم ہوگئی، مایوس کن طور پر پاکستان فائدہ نہیں اٹھا سکتا، ماہر معاشیات مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمت پر فروخت ہونے والا خام تیل خرید کر 10 دن کے اندر اندر پاکستان لانا ہوگا جو فی

الحال ممکن نہیں، ملک میں مزید تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی ختم ہو چکی۔تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں تاریخ کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکا میں کاروبار کے آغاز کے بعد خام تیل کی قیمت میں کمی ہونا شروع ہوئی اور قیمتیں 10 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آئیں۔ بعد ازاں پھر وہ ہوا جو خام تیل کی عالمی مارکیٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈبلیو ٹی آئی تیل کی قیمت میں 100 فیصد سے بھی زائد کمی ہوئی، اور یوں فی بیرل قیمت منفی 0.05 امریکی ڈالر کی سطح پر آگئی۔تاہم مایوس کن طور پر پاکستان اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانے سے قاصر رہے گا۔ پاکستان امریکی تیل کا خریدار نہیں ہے، اور اگر امریکی تیل کا خریدار ہوتا بھی، تو اس وقت پاکستان کے پاس مزید تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس حوالے سے معروف ماہر معاشیات مزمل اسلم نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان اگر موجودہ خام تیل قیمت پر سودے کر بھی لیتا تو اسے اگلے 10 دن کے اندر اندر خریدا ہوا تیل مارکیٹ سے نکالنا پڑتا، جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں۔اس لیے فی الحال پاکستان امریکی خام تیل کی قیمتوں میں تاریخ کمی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب، روس کے درمیان تیل کی قیمتوں پر ہونے والی کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زبردست کمی ہونے کا رجحان برقرار رہا ، نتیجاتاً اب خام تیل کی مارکیٹ کریش کرگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی ملک کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہی، اسی باعث تیل کی طلب نہ ہونے کے برابر ہے، اور اسی وجہ سے قیمتوں میں تاریخی کمی ہوئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.