قومی اسمبلی میں حیران کن انکشافات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی میں طیارہ واقعہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمت طیارہ پرواز کے لئے 100 فیصد فٹ تھا ، اے 320 طیارے میں کسی قسم کی فنی خرابی نہیں تھی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ

22 مئی کے کریشن سے پہلے طیارے نے 6 کامیاب پروازیں کیں، بد قسمت اے 320 نے 5پروازیں لاہور ،کراچی، لاہور روٹ پر کیں۔انہوں نے بتایا کہ طیارے کے پائلٹ اور معاون پائلٹ دونوں پرواز کیلئے طبی طور پر فٹ تھے، لینڈنگ کے لئے فائنل اپروچ کے وقت پائلٹ نے طیارے میں کسی فنی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔انہوں نے پائلٹس کی بھرتیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پائلٹس کو بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کروایا جاتا ہے، جو دکھ کی بات ہے، عزم ہے کہ پی آئی اے کو دوبارہ سے فعال بنایا جائے گا۔غلام سرور نے کہا کہ سیاست دانوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کی جاتی ہے لیکن بد قسمتی سے پی آئی اے کے چار پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلی ہیں، پائلٹس کو بھرتی کرتے وقت میرٹ کو نظر انداز کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ چالیس فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں، پائلٹس کے جعلی لائسنس پر کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے، پی آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ کرنی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں مجموعی طور پہ 860 پائلٹس ہیں، پائلٹس کے امتحانات میں انکشاف ہوا کہ 260 پائلٹس نے اپنی جگہ کسی سے امتحان دلوایا، ان پائلٹس کو جعلی ڈگریاں اور جعلی لائسنس بنوا کر دئیے گئے، ایسے پائلٹس کے خلاف کاروائی شروع کر دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 54 میں سے 28 پائلٹس کو شو کاز نوٹس جاری کئے، 24 کے خلاف پرسنل ہئیرنگ کی ہے، 9 پائلٹس نے روتے روتے اعتراف کیا کہ ان سے غلطی ہوئی، انہوں نے معافی دینے کو کہا معاف کرنے والا اللہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو بلا تفریق آگے بڑھائیں گے، اسے سیاسی رنگ ہرگز نہ دیا جائے۔وزیر ہوا بازی غلام سرورخان نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی طیارہ کریش کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دیا، کریش کے 3 روز بعد فرانسیسی تفتیشی ٹیم پاکستان آ ئی، انکوائری میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ائیر کریش کی مکمل رپورٹ تیار ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا۔غلام سرور نے کہا کہ ایئر بس کی ٹیم نے بھی جگہ کا دورہ کیا اور معلومات جمع کیں، صاف شفاف انکوائری ہورہی ہے، ائیر کریش میں 97 افراد موت کے منہ میں گئے، اسی رات ایک ٹیم تشکیل دی جو سینئر ترین افراد پرمشتمل بورڈ تھا، واقعہ کے بعد یہ بورڈ کراچی پہنچا اور اس نے اپنی تحقیقات کا آغاز کردیا۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد 12 طیارہ کریش ہوئے، کیا ان کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا؟قومی اسمبلی میں کراچی طیارہ کریش کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ آج اس ائیر کریش کی عبوری رپورٹ پیش کررہے ہیں۔بدقسمتی سے یہ طیارہ پہلا واقعہ نہیں،72 سالوں میں 12 واقعات ہوئے ہیں، ان 12واقعات کی بروقت انکوائری ہوئی اورنہ رپورٹ سامنے آئی، ان بارہ واقعات کے ذمہ داروں کا تعین اور سزا کے بارے میں کوئی نہیں جان سکا۔سابق تمام حادثات کی بروقت انکوائری ہوئی نہ رپورٹ سامنے آئی اورنہ حقائق عوام تک پہنچے، آج تک عوام اور مرنے والوں کے

لواحقین میں تشنگی رہی کہ ان واقعات کے ذمہ دار کون تھے؟وفاقی وزیر نے کہا کہ ایئر بلو اور بھوجا ایئر طیارہ کریش بھی پائلٹس کی غلطی کی وجہ سے ہوا، ایئر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو پائلٹس اور معاون پائلٹس نے نظر انداز کیا۔انہوں نے کہا کہ ائیر کریش کی ذمہ داری کریو کیبن اور ایئر ٹریفک کنٹرول کی بھی بنتی ہے، جہاز مکمل فٹ اورآٹو لینڈنگ پرلگا ہوا تھا، طیارے کے پائلٹس طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ تھے۔انہوں نے کہا کہ پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی، لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز تین بار رن وے سے ٹچ ہوا،جس سے انجن کو نقصان پہنچا، جہاز نے جب دوبارہ ٹیک آف کیا تو دونوں انجنوں کو کافی نقصان پہنچ چکا تھا۔غلام سرور خان نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پائلٹ اور اے ٹی سی نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا، ابتدائی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کررہے ہیں جس کے مطابق طیارہ پرواز کے لیے سو فیصد فٹ تھا۔انہوں نے کہا کہ طیارہ گرنے سے جن گھروں کو نقصان پہنچا ان کا ازالہ بھی جلد کریں گے، طیارہ گرنے سے 29 گھروں کونقصان پہنچا، جن گھروں پرطیارہ گرا ان کا سروے کروادیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ عدالت کو بھی ہم تمام حقائق سے متعلق آ گاہ کررہے ہیں، ذمہ داروں کے خلاف بلا تفریق ایکشن ہوگا۔انہوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے چیزوں اور ملک کو ٹھیک کرنا ہے، پی آئی اے کی نجکاری نہیں کریں گے بلکہ اس کی تنظیم نو کریں گے اسے ساٹھ کی دہائی والا ادارہ بنائیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.