کسی کی کاپی پیسٹ نہ کریں

مولانا صاحب جمعہ کے خطبے میں جذباتی تقریر کر رہے تھے۔’’میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت میری بیوی نہیں تھی‘‘حاضرین کو سانپ سونگھ گیا کہ مولانا کیا کہہ رہا ہے؟ مولانا نے تجسس ختم کرتے ہوئے کہا۔۔’’گھبرائیے نہیں۔

وہ عورت میری ماں تھی‘‘۔ایک صاحب کو یہ بات بہت پر لطف لگی، سوچا کیوں ناں گھر جا کر اپنی بیوی کو بھی اس لطف میں شامل کر لے۔سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی،۔۔۔۔۔ صاحب نے کہا ’’تم جانتی ہو میری زندگی کے سب سے سہانے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ کم از کم تم نہیں تھی ‘‘۔چار دن کے بعد جب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئیں اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے۔’’کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے‘‘ مولانا صاحب جمعہ کے خطبے میں جذباتی تقریر کر رہے تھے۔’’میری زندگی کے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ عورت میری بیوی نہیں تھی‘‘حاضرین کو سانپ سونگھ گیا کہ مولانا کیا کہہ رہا ہے؟ مولانا نے تجسس ختم کرتے ہوئے کہا۔۔’’گھبرائیے نہیں۔ وہ عورت میری ماں تھی‘‘۔ایک صاحب کو یہ بات بہت پر لطف لگی، سوچا کیوں ناں گھر جا کر اپنی بیوی کو بھی اس لطف میں شامل کر لے۔سیدھا کچن میں گیا جہاں اس کی بیوی انڈے فرائی کر رہی تھی،۔۔۔ صاحب نے کہا ’’تم جانتی ہو میری زندگی کے سب سے سہانے سب سے سہانے شب و روز جس عورت کے بازوؤں میں گزرے وہ کم از کم تم نہیں تھی ‘‘۔چار دن کے بعد جب ان صاحب کے منہ سے پٹیاں اتاری گئیں اور تیل کی جلن کچھ کم ہوئی تو بولے۔’’کاپی پیسٹ سے گریز کرنا چاہیے‘‘

Sharing is caring!

Comments are closed.