کراچی میں پیش آنے والا ایک دلخراش واقعہ

کراچی (نیوز ڈیسک) شہر قائد کے علاقے گلشن اقبال سے خاتون کی 12 سال پرانی لاش برآمد ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاش 10 سے 12 سال پرانی ہے اور ڈھانچے کی صورت میں ہے،لاش کی شناخت ذکیہ بی بی کے نام سے ہوئی۔اس حوالے سے خاتون کے بھائی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے جن کا نام محبوب بتایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ محبوب نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ذکیہ کے بیٹے اور بیٹی نے ماں کی محبت میں لاش کو اپنے پاس رکھا،انتقال کے بعد دفنانے کی بجائے فریزر میں رکھا،کئی سال تک اس کی دیکھ بھال کرتے رہے۔جبکہ ان کے بچوں کی وفات کے بعد محبوب نے بہن کی لاش کی دیکھ بھال کی۔گذشتہ روز محبوب نے لاش کچرا خانے میں رکھ دی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ذکیہ نامی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرا لیا گیا ہے جب کہ محبوب کو مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب میں دمام کے قریب الجبیل وادی رائل کمیشن میں ٹریفک حادثہ، پاکستانی مزدوروں سے بھری گاڑی پل سے نیچے جا گری جس کے نتیجے میں 6 افراد موقع پر جاں بحق ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق الجبیل رائل کمیشن میں پیش آنے والے ٹریفک کے المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں پیشہ کے لحاظ سے تین مستری اور تین مزدور شامل تھے جو کام کے سلسلہ میں گھر سے جا رہے تھے۔ جاں بحق افراد میں3 کا تعلق سیالکوٹ سے تھا جن میں دو سگے بھائی شان اور سلیمان شامل تھے، ایک کی شادی تین ماہ پہلے ہوئی تھی جو ایک ہفتہ قبل چھٹی گزار کر واپس آیا تھا۔ایک مزدور بورے والہ وہاڑی سے تھا جو ایک ہفتے پہلے روزگار کے سلسلہ میں آیا تھا جبکہ ایک کا تعلق گوجرانوالہ اور ایک پشاور کا رہائشی تھا، جاں بحق افراد کی میتیں رائل کمیشن ہسپتال میں رکھی گئی ہیں اور پاکستان بھیجنے کے لیے پاکستانی کمیونٹی نے اپنی مدد آپکے تحت کوششیں شروع کر دی۔ دوسری جانب ملتان سے ایک بڑی خبر آئی ہے۔

ملتان کا ایسا جوڑا جس نے محبت کی مثال قائم کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق ملتان کا جوڑا جنہوں نے 1984 ء میں شادی کی لیکن ان کے اولاد نہ ہوئی لیکن باوجود ان دونوں کا پیار مثالی بن گیا ۔ بی بی سی کی رپورٹ کے نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مطابق مختار احمد کے روزگا ر کا ذریعہ صرف ایک رکشہ اور رہنے کیلئے ایک کمرہ جس کی چھت دو سال قبل گر گئی تھی ۔ ان کی سردیاں اور گرمیاں دونوں آسمان تلے گزرتی ہیں بارش ہونے کی صورت میں پلاسٹک کی چادر اوڑھ لیتے ہیں ۔ مختار احمد اپنی اہلیہ شاہین کو ساتھ لے کر رکشہ چلاتے ہیں ، انکا کہنا ہے کہ وہ ان کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔مختار احمد اور ان کی اہلیہ دونوں اپنے ساتھ سوکھی روٹی کا ناشتہ لے کر صبح سویر ے گھر سے نکلتے ہیں ، دن کو ہوٹل میں ایک پلیٹ لے کر کھانا کھا لیتے ہیں ۔ شادی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو نہیں دیکھا تھا ۔مختار احمد کا کہنا تھا کہ یہ اتنی اچھی تھیں کہ ان سے پیار ہو گیا ۔ شادی 1984ء میں ہوئی ۔ ملتان سے کراچی گئے جہاں شاہین کا مسلسل نویں بار بھی حمل ضائع ہو گیا ۔ مختار کا کہنا تھا کہ مجھے وہ دن آج بھی نہیں بھولتا جب ہمارا بچہ 9اور چار دن کا ضائع ہوااس سے قبل ہر بچہ چھ ماہ میں ضائع ہو جاتا تھا ۔ اس کے بعد شاہین کی ذہنی حالت بگڑ گئی جو آہستہ آہستہ خراب ہو گئی ۔ مختار احمد اپنی اہلیہ کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں ۔

ان کو وقت پر دوا دینا ، سرمہ لگانا ، کھانا پکانا ، کھنگی کرنا یہاں تک سارے گھر کے کام خود کرتے ہیں ۔ مختار احمد کے گھر والوں نے ان پر کافی دفعہ دوسری شادی کا دباؤ ڈالا جس کی وجہ سے وہ کئی ماہ تک ملتان نہ جاتے تاکہ ان پر دوسری شادی کا دبائو نہ ڈالا جائے ۔ دوسری شادی کا مشورہ دینے والوں کو مختار ہمیشہ یہی جواب دیتے ہیں کہ جب اللہ پاک نے ایک ہی اتنی پیاری بیوی دی ہے جو لاکھوں میں ایک تو پھر ایسے میں دوسری کی کیا ضرورت ہے۔ مختار احمد کا کہنا ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ سواریاں میرے رکشے میں صرف اس لیے نہیں بیٹھتیں کہ میں نے اپنی بیماری بیوی کو ساتھ بٹھایا ہوا لیکن مجھے ان سب کی پرواہ نہیں ہوتی ، مناسب دیہاڑی لگنے پر واپس گھر لوٹ جاتا ہوں ۔ مختار احمد اپنی اہلیہ کیساتھ کئی سالوں سے کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیںلیکن ہمت نہیں ہاری ۔ مختار احمد نے اپنی زندگی کی جمع پونچھی اپنی اہلیہ کے علاج پر خرچ کر دی ہے ،یہاں تک کہ دونوں سڑک پر آگئے رکشہ بھی تین ماہ قبل خریدا ہے۔ واقعی یہ ایک عظیم جوڑا ہے جنہوں نے ایک دکھ بھری زندگی گزارنے کے باوجود ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑا اور سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.