بریکنگ نیوز: حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن کو سلامیاں پیش کرنے والی خاکی وردی پوش انصار الاسلام کے بارے میں تہلکہ خیز حکم جاری کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) واضح رہے کہ جے یو آئی ف کی لٹھ بردار تنظیم انصار الاسلام کی جانب سے چند روز قبل اپنے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا جس کی وجہ سے حکومتی حلقوں کی جانب سے اس عمل کومسلسل ہدف تنقید بنایا جارہا تھا۔ اب حکومت نے مولانا فضل الرحمان کو گارڈ آف آنر دینے والی


جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قراردینے کا فیصلہ کرلیا ہے ، اس مقصد کے لئے سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کوارسال کردی گئی ہے ۔ نجی نیوز چینل کے مطابق حکومت نے جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم کوکالعدم قرار دینے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔ جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کو کالعدم قرار دینے کی سمری وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو ارسال کردی گئی ہے ۔وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو بھجوائی جانیوالی سمری میں کہاگیاہے کہ جے یو آئی کی ذیلی تنظیم لٹھ بردار ہے اور قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ سمری کے مطابق قانون کسی بھی قسم کی ملیشیا کی اجازت نہیں دیتا ۔ واضح رہے کہ جے یو آئی ف کی لٹھ بردار تنظیم انصار الاسلام کی جانب سے چند روز قبل اپنے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا جس کی وجہ سے حکومتی حلقوں کی جانب سے اس عمل کومسلسل ہدف تنقید بنایا جارہا ہے ۔ یاد رہے کہ سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان ریڈ لائن کراس کرچکے ہیں، نوازشریف اور مریم نے جب ریڈ لائن کراس کی تومقبولیت میں بڑی کمی آگئی،مولانا نے کہا تھا کہ بڈھے بڈھے جرنیل اسرائیل کی ترجمانی کرنے آجاتے ہیں۔انہوں نے سربراہ جے یوآئی ف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تھوڑا دکھ اور حیرانی ہوئی ،میں نے ان کا ہمیشہ احترام کیا وہ بڑے سیاستدان ہیں،ان سے زیادہ کسی کو آرٹ آف کمپرومائز نہیں آتا،1973ء کے بعد پہلا موقع ہے کہ مولانا فضل الرحمان کسی اتحاد یا حکومت کا حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی اپنے انتخابی حلقوں میں کچھ نہیں کیا، لیکن فائدہ ضروراٹھایا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے بڑی ریڈکراس کرلی ہے۔ نوازشریف نے جب ریڈ لائن کراس کی تونوازشریف کی مقبولیت میں بڑی کمی آگئی، مریم صفدر نے جب اس ریڈ لائن کو کراس کیا تو وہ ایک غیرمقبول لیڈربننا شروع ہوگئیں۔ مسلم لیگ ن میں لوگ کہنا شروع ہوگئے کہ ہم مریم کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے، ان کے چچا ان کی پالیسی سے الگ ہوگئے،مریم نے بڑی تکبرانہ باتیں کیں، کہ ہم دیکھ لیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.