قدرت کا معاملہ

اللہ رب العزت ہر انسان کو کسی نہ کسی کے وسیلے سے رزق دیتا ہے جو کچھ ہمیں ملتا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سب کچھ ہماری اپنی ذات کے لئے ہی ہے بلکہ اگر ہمیں زیادہ مل رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں تقسیم کرنے لئے دیا گیا ہے ایک بھٹے والا

ٹھیلا چلاتا تھا روز اس کے پاس ایک بچہ آتا تھا جو اس سے بھٹہ لیا کرتا تھا “چاچا ایک بھٹہ تو دےدو” _وہ دےدیا کرتا تھاایک دن ایک لمبی سی گاڑی اس بھٹے والے کے پاس آی اور اسے 20 بھٹوں کا آرڈر دیا. بھٹے والابہت خوش ہوا ،اس نے اسے اچھا اچھا سا بنا کر دے دیا ، اگلے دن پھر وہی گاڑی دوبارہ آی اور پھر 20 بھٹوں کا آرڈر دیا،ایسے وہ گاڑی والا روز اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے 20 بھٹے لیجانے لگا بھٹے والے کا کاروبار بھی اسی کاروبار بھی اسی طرح اچھا ہونے لگا ایک دن بھٹے والا بڑا مصروف تھا اسی لمبی گاڑی والے کے بھٹے تیار کرنے میں، اتنے میں وہی بچہ آیا جو روز اتا تھا اور کہا ”چاچا ایک بھٹہ تو دے دو”. تو بھٹے والے نے کہا “ابھی جاؤ یہاں سے ،میرے پاس وقت نہیں، میں مصروف ہوں. بار بار آجاتے ہیں بھٹہ مانگنے”! بچہ چلا گیا. بھٹے والا بھٹے تیار کر کے انتظار کرتا رہا وہ لمبی سی گاڑی اس دن نہ آئی بھٹے والے نے قدرت کے ماجرے کا نوٹس نہ لیا اگلے دن پھر وہ انتظار کرتے رہا وہ لمبی گاڑی پھر نہیں آی.اس کے اگلے روز دوبارہ انتظار کے باوجود گاڑی نہ آئی ایسے ایک ہفتہ گزر گیا اب تک بھٹے والے کو سمجھ نہ ایا کہ قدرت کا ماجرا ہے کیا ؟ پھر وہ بچہ آیا بھٹے والے کے پاس “چاچا ایک بھٹہ تو دےدو” ، بھٹے والے نے بچے کی طرف دیکھا اور پھر

بھی نہ سمجھا کہ قدرت کا ماجرا کیا ہے. بہرحال اس کو ایک بھٹہ دے ہی دیا. یہاں اس نے بھٹہ دیا گھنٹے دو گھنٹے کے بعد وہ لمبی گاڑی آگئ کہ “بھائ 20 بھٹے دے دو،” اس نے جلدی جلدی بھٹے بناےاور گاری والے کو دے دیا اور گاڑی کے مالک سے پوچھا “سرکار آپ ایک ہفتے سے کہاں تھے؟ “ تو مالک نے کہا “یہ میرے دفتر سے گھر جانے کا رستہ ہے یہاں رستے میں ایک پٹرول پمپ ہے اس پمپ سے میں گاڑی میں تیل بھرواتا ہوں تو ایک بار اس کے پٹرول میں کچرا آگیا تو میں نے وہاں سے اپنا رستہ بدل لیا ،اب میں دوسرے رستے سے جاتا ہوںاور دوسرے پمپ سے تیل بھرواتا ہوں _لیکن اس پمپ کے مالک نے مجھے رابطہ کیا اور کہا میرے ملازمین کی غلتی ہے اگلی بار سے ایسا نہیں ہوگا. تو میں نے اسے معاف کر دیا، اور اپنا یہ رستہ واپس اختیار کر لیا”. بھٹے والا گھر گیا رات سوچتے رہا پھر اسے سمجھ آیا کہ جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا بند کیا تو اللہ نے اس لمبی گاڑی والے کے پٹرول میں بھی کچرا ڈال دیا اور جب اس نے بچے کو بھٹہ دینا شروع کیا تو اللہ نے اس گاڑی والے کا معافی نامہ اس پمپ والے سے کروا دی گویا اس کا اپنا رزق اس بچے کے پیٹ سے جڑا ہوا تھا جو نہ تو اسکا ملازم تھا نہ ہی اولاد تھی نہ ہی جاننے والا تھا بس اللہ کا ایک بندہ تھا پھر وہ یہ سمجھ گیا کہ کسی کو رزق کو پہچانے کے لیےاللہ کسی کو رزق دیتا ہےاور جب ہم وہ رزق نہیں پنچاتے تو اللہ ہمارا رزق بھی روق دیتا ہےاور وہ بندا کون ہوتا هے وہُ ہم کبھی نہیں جان سکتے !

Sharing is caring!

Comments are closed.