چین اور عالمی ادارے کو کس نے بتایا تھا کہ یہ نئی بیماری کورنا وائرس ہے؟ عالمی ادرہ صحت کے انکشاف نے نیا پینڈورا بکس کھول دیا

جنیوا(ویب ڈیسک )عالمی ادارہ صحت نے نیا پینڈورا بکس کھول دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ادارے کو ووہان میں نمونیا کے پہلے کیسوں کے متعلق چین نے نہیں بتایا تھا بلکہ انھیں چین میں موجود اپنے دفتر سے پہلا الرٹ موصول ہوا تھا۔عالمی ادارہ صحت نے کووڈ 19 بحران کے ابتدائی مراحل کی اطلاعات ملنے

سے متعلق تازہ ترین معلومات جاری کی ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، رواں ہفتے شائع ہونے والی نئی ٹائم لائن سے ایسے اشارے ملتے ہیں کہ 31 دسمبر کو چین میں ڈبلیو ایچ او کے دفتر نے ووہان ہیلتھ کمیشن کی ویب سائٹ پر مقامی میڈیا کو دی جانے والی معلومات کی روشنی میں اپنے علاقائی دفتر کو ’وائرل نمونیہ‘ کے مریضوں سے متعلق مطلع کیا تھا۔اسی روز ڈبلیو ایچ او کی وبا سے متعلق انفارمیشن سروس نے امریکہ میں کام کرنے والے وباؤں سے متعلق عالمی نگرانی کے نیٹ ورک سے ایک خبر ملی جس میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر نمونیہ کے انھیں متاثرین کا تذکرہ تھا۔جس کے بعد ڈبلیو ایچ او نے یکم اور 2 جنوری کو چینی حکام سے اس بارے میں معلومات طلب کیں، جو انھوں نے 3 جنوری کو فراہم کیں۔ڈبلیو ایچ او کی ہنگامی صورتحال کے ڈائریکٹر مائیکل ریان نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کسی بھی ملک کے پاس کسی واقعے کی باضابطہ طور پر تصدیق کرنے اور ایجنسی کو کسی واقعے کی نوعیت یا اس کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کرنے کے لیے 24 سے 48 گھنٹے کا وقت ہوتا ہے۔ریان نے مزید بتایا کہ رپورٹ کی تصدیق کے لیے چینی حکام نے فوری طور پر ایجنسی سے رابطہ کیا۔خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار چین پر یہ الزام لگا چکے ہیں کہ اس نے دنیا کو اس وائرس کے بارے میں بروقت مطلع نہیں کیا ہے۔ چین ایسے الزامات کی تردید کرتاہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.