مریم نواز کے بعد کیپٹن صفدر بھی شہباز شریف سے ناراض، (ن) لیگ کو نئے بحران کا سامنا، حیرت انگیز صورتحال پیدا ہوگئی

لاہور (ویب ڈیسک) کیپٹن (ر) صفدر نے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے ساتھ بیٹھ کر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ملاقات کرنے سے انکار کر دیا اور خود مولانا فضل الرحمان سے علیحدگی میں ملاقات کی۔ اس حوالے سے قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی شہبازشریف سے ملاقات میں انہوں نے مارچ کے بارے میں رضامندی کا اظہار نہیں کیا۔

کیپٹن (ر) صفدر ناراض نظر آئے اور انہوں نے شہبازشریف کے ساتھ بیٹھ کر مولانا فضل الرحمان سے گفتگو سے انکار کردیا۔ کیپٹن (ر) صفدر اور مولانا فضل الرحمان کی علیحدہ ملاقات ہوئی۔ کیپٹن (ر) صفدر نے واضح طور پر مولانا فضل الرحمان کو کہا کہ مسلم لیگ ن کی مارچ میں شرکت کا فیصلہ شہبازشریف نہیں بلکہ نوازشریف اور مریم کی ہدایت پر ہوگا۔ آئندہ آپ نے جو بھی بات کرنی ہے وہ مجھ سے کرنی ہے ۔ شہبازشریف نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ ایگزیکٹو کونسل سے بات کرکے مارچ میں شرکت کا فیصلہ کریں گے۔ شہبازشریف جیل نہ جانے کے لیے ڈیل کرنے جارہے ہیں۔ وہ مفاہمت کی طرف جانا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا مارچ نوازشریف کی رہائی کے لیے ہے اورمولانا نے جو فنڈ مارچ کے لیے مسلم لیگ ن سے لینا ہے وہ بھی کیپٹن (ر) صفدر کو بتا دیا گیا ہے ۔100روپے کی ٹکٹ والی بات محض بہانہ ہے،یہ شوشہ صرف اس لئے چھوڑا ہے کہ کل کو کسی ادارے کو جواب نہ دینا پڑے کہ دھرنے کے لوگوں کے لیے پیسے کہاں سے آئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو بتا دیا گیا ہے کہ دھرنے کے لیے ہمیں اتنے پیسے درکار ہیں۔ کیپٹن (ر) صفدر نے مولانا فضل الرحمان سے کہا ko میں آپ کا پیغام نوازشریف اور مریم کو پہنچا دوں گا، آئندہ ملاقات فضل الرحمان کی شہبازشریف کی بجائے کیپٹن (ر) صفدر سے ہوگی۔ نوازشریف کا پیغام مولانا فضل الرحمان کو دیا جائے گا اورپھر طے ہوگا کہ مولانا کو کتنے پیسے ملتے ہیں ، کیسے ملتے ہیں اور کون دے گا ۔ نواز شریف اور مریم نواز کے جیل میں ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کے فیصلے کیپٹن (ر) صفدر کررہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.