کورونا حیران کن شکل میں: اٹلی کے ایک گاؤں میں کیسا انوکھا واقعہ پیش آیا ؟ جانیے

لندن (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق کے مطابق اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا وائرس سے متاثرہ جن لوگوں کو قرنطینہ کیا گیا تھا ان میں سے 40 فیصد میں مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اٹلی اور برطانوی ماہرین کی اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مقامی سطح پر لاک ڈاؤن

کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہےاس گاؤں کی آبادی صرف 3200 افراد پر مشتمل تھی اور یہاں ملک میں 21 فروری کو پہلی ہلاکت کے بعد دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا تھا۔ اس پورے گاؤں میں ٹیسٹنگ کی گئی تھی نتائج سے معلوم ہوا کہ گاؤں کی 2.6 فیصد آبادی یعنی 73 لوگوں میں کورونا وائرس موجود تھا۔ دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے بعد صرف 29 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ دونوں مرتبہ تقریباً 40 فیصد کیسز میں علامات ظاہر نہیں ہوئیں تاہم وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا تحقیق کی سربراہ پروفیسر انڈریا کرسینٹی کے مطابق خاموشی سے پھیلنے والے اس وائرس کو قابو کیا جاسکتا ہے وہ کہتی ہیں کہ ’تمام شہریوں کی ٹیسٹنگ، یہ جانے بغیر کہ ان میں علامات ہیں یا نہیں، سے وبا کو روکا جاسکتا ہے ایک نئی تحقیق کے مطابق اٹلی کے ایک گاؤں میں کورونا وائرس سے متاثرہ جن لوگوں کو قرنطینہ کیا گیا تھا ان میں سے 40 فیصد میں مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں اٹلی اور برطانوی ماہرین کی اس تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور مقامی سطح پر لاک ڈاؤن کی مدد سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.