بچی چپ نہیں کر رہی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) راولپنڈی میں ایک علاقہ ہے رتہ امرال‘ اس علاقے کے ایک صاحب چھوٹے سے سرکاری ملازم ہیں‘ دو سال قبل ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا‘ بچے چھوٹے تھے‘ صاحب نے نئی شادی کر لی مگر اہلیہ سوتیلے بچوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی چناں چہ وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی‘ یہ صاحب صبح نوکری پر جاتے تھے اور رات کو لیٹ واپس آتے تھے۔

بچے گھر میں اکیلے ہوتے تھے‘ بیٹی کی عمر 14 سال تھی‘ یہ بچی اپنے بھائی پالتی تھی‘ جون 2019ءمیں ان کا ایک ہمسایہ اسد علی زبردستی گھر میں داخل ہوا اور 14 سال کی بچی کا ریپ کر دیا۔ بچی خوف کی وجہ سے خاموش رہی‘ ہمسائے نے اس کے بعد ریپ کو روٹین بنا لیا‘ یہ والدکی غیر موجودگی میں ان کے گھر داخل ہو جاتا تھا‘ یہ سلسلہ چند دن چلا‘ یہ اس کے بعد اپنے ایک دوست بہادر علی کو بھی ساتھ لے گیا‘ بہادر علی نے بھی بچی کے ساتھ زیادتی شروع کر دی‘ یہ دونوں بچی کو قتل کی دھمکی بھی دیتے تھے اور محلے میں بدنام کرنے کی بھی لہٰذا بچی ڈر کر خاموش ہو جاتی تھی‘ یہ دو لوگ چند دنوں میں تین اور پھر چار ہو گئے‘عابد اور یحییٰ بھی ان کے ساتھ مل گئے اور یہ چاروں بچی کو مسلسل ریپ کرتے رہے‘ دسمبر 2019ءمیں بچی کے پیٹ میں خوف ناک درد اٹھا‘ والد بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا‘ پتا چلا بچی چھ ماہ کی حاملہ ہے‘ والد نے ابارشن کی کوشش کی لیکن ابارشن اب ممکن نہیں تھا‘ والد نے پولیس کو درخواست دے دی‘ ملزمان گرفتار ہوگئے‘ اعتراف جرم بھی ہو گیا اور یہ جیل بھی بھجوا دیے گئے‘ یہ کہانی کا ایک پہلو تھا‘ اگلا ہول ناک پہلو اس کے بعد آتا ہے‘ 14 سال کی اس بچی نے چند دن قبل ایک بچی کو جنم دے دیا۔

یہ بچی اب اپنی چودہ سال کی ماں کی گود میں ہے اور یہ روز چیخ کر اس واہیات سماج سے صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے‘ یہ پوچھ رہی ہے میں کون ہوں اور اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میرا مستقبل کیا ہے؟ کیا ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟۔ ہمیں بہرحال یہ ماننا ہو گا ہم درندوں کے سماج میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے دائیں بائیں جانو رہتے ہیں اور یہ جانور خون سونگھتے پھرتے رہتے ہیں لیکن ٹھہریے جانور بھی ہم سے بہتر ہیں‘ یہ بھی اس وقت تک اپنی کسی مادہ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے جب تک وہ ”ہیٹ“ پر نہیں آتی جب کہ ہم تو چھوٹی معصوم بچیوں کو بھی نہیں بخشتے‘ ہم انہیں ہوس کا نشانہ بھی بنا دیتے ہیں‘ قتل بھی کردیتے ہیں‘ چودہ سال کی عمر میں ماں بھی بنا دیتے ہیں اور پھر اس کی گود میں پڑی اپنی اولاد کو بھی نہیں پہچانتے ‘ آپ نے کبھی سوچا اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے لیے کوئی کتاب‘ کوئی نبی کیوں نہیں اتارا تھا؟ اس لیے کہ جانور اپنے اصولوں‘ اپنے ضابطوں کے پکے ہوتے ہیں‘ شیر اس وقت تک کسی دوسرے جانور پر حملہ نہیں کرتا جب تک وہ بھوک سے بے حال نہیں ہو جاتا‘ درندے بھی بچوں پر حملے نہیں کرتے‘ شیرنی بھیڑ کا بچہ پال لے گی اور بھیڑ شیر کے بچے کو دودھ پلا دے گی لیکن یہ ہم انسان ہیں جن کا کوئی ضابطہ‘ کوئی اصول اور کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی۔

لہٰذا اللہ تعالیٰ کو ہمیں یہ یاد کرانے کے لیے ”تم انسان ہو‘ تم اشرف المخلوقات ہو“ ایک لاکھ 24 ہزار نبی اور چار کتابیں اتارنا پڑیں مگر آپ ہمارا کمال دیکھیے۔ ہم اس کے باوجود انسان نہیں بن سکے‘ ہم نے اللہ کے گھر میں بھی شیطانیت نہیں چھوڑی‘ ہم نے اللہ کا نام لے کر انسانوں کے سر اتارے‘ عورتوں کو لونڈی بنایا اور بچوں کو غلام بناکر بازار میں فروخت کیا‘ آپ المیہ ملاحظہ کیجیے قدرت نے آج تک کسی جانور پر عذاب نہیں اتارا لیکن ہم انسان بار بار اللہ کے عذاب کا نشانہ بھی بنے اور ہم نے قدرت کو شرمندہ بھی کیا‘ ہم انسان تو اپنی توبہ پر بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے چناں چہ ہم جانوروں سے بھی بدتر ہیں‘ میں 14سال کی اس ماں کی طرف واپس آتا ہوں۔ مجھے چند دن قبل امریکا کی ایک عدالت اور ایک جج کا فیصلہ پڑھنے کا اتفاق ہوا‘ جج کی عدالت میں ایک چور بچہ پیش کیا گیا تھا‘ بچے نے کسی سٹور سے کھانے پینے کا سامان چوری کیا تھا‘ سٹور کے مالک نے اسے پکڑ کر مارا اور پولیس کے حوالے کر دیا ‘ پولیس بچے کو لے کر عدالت میں پیش ہو گئی‘ جج نے بچے سے پوچھا ”کیا تم نے چوری کی“ بچے نے جواب دیا ”جی میں نے کی“ جج نے پوچھا ”کیوں؟“ بچے نے جواب دیا ”میں تین دن سے بھوکا تھا‘ بھوک نے مجھے خوراک چرانے پر مجبور کر دیا“۔ جج نے پوچھا ”کیا تمہارا والد تمہارے کھانے پینے کا بندوبست نہیں کرتا۔

بچے نے جواب دیا ” میرا والد نہیں ہے“ جج نے پوچھا ”اور ماں“ بچے نے جواب دیا ”وہ معذور ہے اور وہ مجھ سے زیادہ بھوکی تھی‘ میں نے اس کے لیے بھی سٹور سے خوراک چوری کی تھی“ جج نے پوچھا ”تم نے ہمسایوں اورسوشل سیکورٹی سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟“ بچے نے جواب دیا ”میں نے ہمسایوں سے رابطہ کیا تھا لیکن کسی نے میری بات نہیں سنی تھی جب کہ سوشل سیکورٹی کے دفتر چھٹیوں کی وجہ سے بند تھے“ ۔ جج نے پوچھا ”تم نے سٹور کے مالک کو صورت حال بتائی تھی“ بچے نے کہا ”میں خوراک مانگنے کے لیے بار بار اس کے پاس جاتا تھا لیکن یہ مجھے دکان سے باہر نکال دیتا تھا“ یہ سن کر جج کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے کمال فیصلہ لکھا‘ اس نے لکھا ”میں عدالت میں موجود اپنے سمیت تمام لوگوں کو مجرم ڈکلیئر کرتا ہوں‘ ہم سب بچے کو فوری طور پر پچاس پچاس ڈالر فی کس جرمانہ ادا کریں گے‘ میں بچے کے تمام ہمسایوں کو بھی مجرم ڈکلیئر کرتا ہوں۔ یہ اگلے دس سال تک روز اس کے دروازے پر دستک دیں گے اور ماں بیٹے سے پوچھیں گے آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور یہ جو کہیں گے ہمسائے انہیں وہ فراہم کریں گے‘ سٹور کا مالک بچے سے تحریری معافی بھی مانگے گا اور اسے فوری طور پر ہزار ڈالر بھی ادا کرے گا ۔

اور آخری آرڈر سوشل سیکورٹی کے دفتر چھٹیوں کے دن بھی کھلے رہیں گے اور اگر کوئی بچہ ان سے رابطہ کرے گا تو یہ دس منٹ میں اس کے گھر پہنچیں گے۔آپ انصاف کا لیول دیکھیے لیکن ٹھہریے یہ کافر معاشرے کاانصاف اور جہنمی لوگوں کا جج تھا۔ ہم اور ہمارے جج اہل ایمان ہیں اور ہمارا معاشرہ جنتی لوگوں کا معاشرہ ہے لہٰذا ہمیں کافر جج کی طرف دیکھنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں‘ہمیں 14سال کی ماں اور اس کی معصوم اور بے گناہ بچی کے لیے ہرگز ہرگز سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں چناں چہ14 سال کی یہ ماں اور اس کی یہ بچی اہل ایمان جنتی مومنین سے کوئی سوال‘ کوئی مطالبہ نہیں کر رہی‘ یہ صرف اور صرف کسی ایسے کافر جج کا انتظار کر رہی ہے جو چاروں مجرموں اور بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرائے۔ یہ بچی جس کا نطفہ ثابت ہو عدالت اس کو اس کا باپ ڈکلیئر کرے اور یہ حکم جاری کرے 14 سال کی ماں جس دن اٹھارہ سال کی ہو گی اسے اس دن عدالت میں لا کر نومولود بچی کے ”والد“ کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جائے گا اور یہ باقی زندگی اسے طلاق نہیں دے سکے گا‘ یہ جس دن اسے طلاق دینے کی کوشش کرے گا اس دن اسے عمر قید کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے گا اور عدالت اس کے بعد باقی تینوں مجرموں کو سزا سنائے‘ یہ تینوں مرنے تک 14 سال کی اس بچی اور اس کی بچی کو ہر ماہ لاکھ لاکھ روپے ادا کریں گے۔

یہ لوگ یہ لاکھ روپے مانگ کر لائیں‘ کام کر کے لائیں‘ محنت مزدوری کریں یا پھر اپنے گردے بیچیں لیکن یہ ہر صورت یہ رقم ادا کریں گے‘ یہ جس دن یہ رقم ادا نہیں کریں گے یہ عمر قید میں ڈال دیے جائیں گے یا پھر انہیں ”ریپ“ کے جرم میں پھانسی چڑھا دیا جائے گا اور جج اس کے بعد چودہ سال کی ماں کے ہمسایوں کو بھی بلا لے اور ان سے پوچھے ”بچی کا والد جب دفتر چلا جاتا تھا تو کیا تم اندھے اور بہرے تھے تمہیں پتا نہیں چلا کون‘ کون بچی کے گھر داخل ہوتا تھا اور اس بے چاری کے ساتھ کیا ہوتا تھا؟ جج ان ہمسایوں کو بھی بھاری جرمانہ کرے تا کہ آئندہ کوئی ہمسایہ اپنی آنکھیں بند نہ رکھ سکے‘ لوگ خالی گھروں اور بے ماں کی بچیوں کی حفاظت کر یں لیکن مجھے یقین ہے یہ اس ملک میں نہیں ہو سکے گا‘ ہم اہل ایمان ہیں اور ہم اہل ایمان ایسے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ کافر جج ہیں جو عدالت میں موجود لوگوں کو بھی جرمانہ کر دیتے ہیں‘ ہمارے ایمان دار ملک اور ہماری اخلاقیات میں چودہ سال کی اس ماں اور دو ہفتوں کی اس بچی کے لیے صرف ایک ہی انصاف ہے اور وہ انصاف ہے موت۔ یہ دونوں بے چاریاں مرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گی اور ان کی موت کے بعد عدم پیروی اور ثبوتوں کی غیرموجودگی کے باعث مجرم بھی باعزت رہا کر دیے جائیں گے اور یوں یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔میں یہ حقیقت جانتا ہوں لیکن دو ہفتوں کی بچی یہ سچ نہیں جانتی لہٰذایہ روز چیخ کر کسی کافر جج کو بلا رہی ہے‘ یہ روز کسی کافر کو آواز دے رہی ہے‘ یہ چپ نہیں کر رہی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.