’’کل میں پاک تھی لیکن آج۔۔۔‘‘انڈین کرکٹر محمد شامی کی بیوی نے اپنی نازیبا تصویر شیئر کردی،سوشل میڈیا پر تہلکہ مچ گیا

ممبئی (نیوز ڈیسک) انڈین فاسٹ باؤلر محمد شامی کی اہلیہ حسین جہاں نے اپنی ایک برہنہ تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حسین جہاں اپنے شوہر پر سنگین نوعیت کے الزامات لگانے کے بعد ان سے علیحدگی اختیار کرچکی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر اپنی ایک

ماضی کی تصویر شیئر کی ہے جس میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ برہنہ کھڑی ہیں۔حسین جہاں نے یہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا ” کل تُو کچھ نہیں تھا تو میں پاک تھی آج تُو کچھ بن گیا تو میں ناپاک ہوگئی، جھوٹ برقع ڈال کر بے پردہ سچ کو مٹا نہیں سکتا، مگر مچھ کے آنسو کچھ دنوں کا ہی سہارا ہوتے ہیں۔” ناہید مہتاب نے حسین جہان سے کہا کہ اگراپ یہ سوچ رہی ہو کہ ایسا کرکے بہت اچھا کر رہی ہو تو آپ غلط ہیں، کسی بھی مذہب میں اس کی اجازت نہیں ہے ۔ عرفان خان نے حسین جہاں سے کہا ” ایسی پوسٹ کرنے میں شرم نہیں آتی ؟” دوسری جانب کراچی میں ایک طرف آکسیجن سلینڈر، ریگولیٹر اور پلس آکسیمیٹر کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا جب کہ آکسیجن سپلائی کرنے والے بڑی کمپنیوں نے اپنے پلانٹ ہی بند کر دیے جس سے مرض کے اخراجات اور مریضوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا۔ کورونا کیسز بڑھتے ہی کراچی میں آکسیجن سلینڈر اور آکسیجن بھی نایاب ہونے لگی ،مانگ بڑھتے ہی آکسیجن سلینڈر، ریگولیٹر اور پلس آکسیمیٹر کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اسپتال بھر جانے کے باعث کورونا کے مریض اب بڑی تعداد میں گھروں پر آکسیجن استعمال کررہے ہیں اور پریشان کن پہلو یہ ہے کہ آکسیجن سپلائی کرنے والی بڑی کمپنیوں نے پیداوار بڑھانے کے بجائے اپنے پلانٹ ہی بند کردیے ہیں۔ آکسیجن سپلائرزکے مطابق ملک میں کورونا کے باعث سلینڈرز کی درآمد نہیں ہورہی ہے اس لیے پہلے اپنے رجسٹرڈ مریضوں کو آکسیجن کی سپلائی کو ممکن بنارہے ہیں جب کہ دوسرے مرحلے میں دیگر مریضوں کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہر کی آکسیجن سلینڈرز کی قلت کے باعث کورونا مریضوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی زندگیاں بچانے کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.