خط میں ایسا کیا لکھا تھا کہ پاکستانی عوام کو انہی حالات میں رہنا پڑے گا؟ نامور کالم نگار آصف عفان نے نشاندہی کردی

لاہور (ویب ڈیسک)از سیلف آئسولیشن: قارئین اور احباب کو خبر ہو کہ قرنطینہ میں آٹھواں روز بھی بخیریت گزر رہا ہے۔ چند علامتی جھٹکوں کے ساتھ یہ موذی وائرس تمام تر منفی اثرات کے ساتھ کچھ اس طرح حملہ آور ہوا کہ بالآخر مثبت ہو گیا۔ ہر احتیاط و ضبطِ مسلسل کے باوجود یہ کورونا نقب لگانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ مہلک اور منفی اثرات کے ساتھ اس کا مثبت ہونا کسی قیامت سے ہرگز کم نہیں۔

نامور کالم نگار آصف عفان لکھتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ مثبت رجحانات کا راسخ العقیدہ شخص بھی دعائیں مانگتا پھرتا ہے کہ یہ کورونا کہیں مثبت نہ ہو جائے‘ گویا مثبت پسندی اپنی جگہ لیکن جاں لیوا وائرس منفی ہی رہنا چاہئے۔ کورونا مثبت ہوتے ہی گھر میں خود کو اس خوف سے قرنطینہ کر لیا کہ ایک طرف فائیو سٹار ہوٹل سے زیادہ مہنگے پرائیویٹ ہسپتال کے اخراجات اور دوسری طرف وہ سرکاری انتظامات ہیں جن کے تصور سے ہی بندہ کانپ جاتا ہے۔اس قرنطینہ میں گزرنے والے شب و روز کا کمال یہ ہے کہ اکثر اعتکاف کا سا گماں ہوتا ہے۔ خود سے ملاقات سے لے کر خود احتسابی تک‘ اپنے رب سے ہمکلام ہونے سے لے کر توبہ استغفار تک‘ بے پناہ نعمتوں اور بے حساب کامیابیوں کا شکر بجا لانے سے لے کر اپنے اساتذہ‘ دوست احباب اور اہلِ خانہ کی صحت و سلامتی کے لیے مناجات تک سبھی کے لیے وقت ہی وقت ہے۔ اس دوران اپنے رب سے ایک دعا اور بھی ہے جوکثرت سے بار بار مانگ رہا ہوں کہ اے ربِ کعبہ! تجھے اپنی شانِ کریمی کا واسطہ‘ تجھے اپنے محبوبﷺ کا واسطہ اس ملک و قوم پر نظرِ کرم فرما‘ یہ قوم پہلے ہی پریشان حال اور منزل کے لیے بھٹک رہی ہے‘ ایسے میں کورونا کی ہولناک تباہی سے اسے محفوظ فرما دے۔ یہ وبا ہے یا بلا اس پر بند باندھ دے اور اس کا رخ آبادیوں کی طرف سے موڑ دے اور زندگی کی وہ سبھی رونقیں لوٹا دے جو کورونا کی وجہ سے حسرت اور یاس بن چکی ہیں۔

زندگی کی گہماگہمی واپس لوٹا دے۔ کورونا کی وجہ سے جا بجا ویرانیاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں‘ کہیں بستیوں کی بستیاں سوگوار ہیں تو کہیں تیرے عاجز بندے اس کورونا کے ہاتھوں اشکبار ہیں۔ اے ربِ کائنات! تیرے خزانے میں کوئی کمی نہیں‘ تو دینے پر آئے تو پل بھر میں منظر بدل سکتا ہے۔ خوف و ہراس میں ڈوبے ہوئے تیرے یہ بندے تیرے رحم اور تیرے کرم کے طلبگار ہیں۔ یہ کسی قابل نہیں‘ نہ تیرے انصاف کے متحمل ہو سکتے ہیں نہ ہی تیری آزمائش کے۔قارئین! حالات کا رونا روئوں یا کورونا کا؟ سبھی کچھ جوں کا توں ہے۔ کورونا کی تباہ کاریاں اور حکمرانوں کی چمتکاریاں سبھی عوام کو زندہ درگور کیے ہوئے ہیں۔ ریلیف کے نام پر حکومتی اقدامات کا اتنا ڈھول بجایا گیا کہ بالآخر وہ پھٹ ہی گیا ہے۔ اب اسی ڈھول کو گلے میں ڈالے پھرتے نظر آتے صوبائی دارالحکومت میں ایسی ایسی واردات دیکھنے اور سننے میں آرہی ہے تو دور دراز علاقوں کا کیا حال ہو گا؟ ایکسپو سینٹر قرنطینہ پر ناقابلِ یقین اور ہوشربا خطیر رقم خرچ کرنے کا پنڈورا بکس کھل چکا ہے۔ کروڑوں کا بل ان انقلابی اقدامات کا منہ چڑا رہا ہے۔ سرکاری بابو ذمہ داری لینے سے گریزاں ہیں تو وزرا ان خطیر اخراجات سے انکاری۔ ان سے کوئی پوچھے‘ کیا یہی تھا ریلیف پیکیج؟ بار بار عرض کررہا ہوں کہ یہ ایک قرنطینہ کا حال ہے ‘باقی تو ہر طرف بس دھمال ہی دھمال ہے۔ جس قرنطینہ میں مریض سراپا احتجاج ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں‘ سرکاری ہسپتالوں میں آئے روز مظاہرے ہوتے ہوں‘ وہاں کون سے انتظامات اور کہاں کے اقدامات؟ سب الفاظ کا گورکھ دھندہ اور زبانی جمع خرچ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت اور طبی ماہرین کو پاکستان میں کیے گئے کورونا اقدامات پر پہلے ہی تشویش تھی‘ اب حکومت پنجاب کو WHO کی طرف سے موصول ہونے والے خط نے ثابت کر دیا کہ حکومت عوام اور کورونا کو ایک دوسرے کے منہ پر کروا کر خود بری الذمہ رہنا چاہتی ہے۔ لاک ڈائون سے گھبرائی ہوئی انتظامیہ راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہے۔ کورونا کا رونا تو اب روز کا رونا ہے۔ عوام کے حالات اور تکالیف سے بے نیاز سرکار اپنے اقدامات پر اسی طرح نازاں اور اترائی پھرے گی۔ اس تناظر میں یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اب عوام کے دن پھرتے نظر نہیں آتے۔ انہیں انہی حالات میں رہنا پڑے گا۔ اب چلتے ہیں اس پنڈورا بکس کی طرف جو حکومت چینی سکینڈل کے تسلسل میں کھولنے جا رہی ہے۔ خبر ہے کہ تحقیقات کا آغاز 1985ء سے کیا جائے گا اور سبھی بینی فشریز کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ تحقیقات کا آغاز یقینا 1985ء سے ہی بنتا ہے‘ لیکن اگر ہدف جہانگیر ترین اور مقاصد سیاسی نہیں تو صرف چینی سکینڈل ہی کیوں‘ ضیا دور میں جن معززین‘ شرفا اور سیاسی اشرافیہ کی پنیری لگائی گئی‘ آج وہ خاردار جھاڑیوں پر مشتمل جنگل بن چکا ہے۔ اس زمانے میں دھوتیاں اور سلُوکے پہن کر پیدل بھاگے پھرنے والے آج اپنے بدن پر مہنگی پوشاکیں سجائے ہوئے ہیں۔ اندرون شہر کی تنگ و تاریک گلیوں کے چوباروں پر رہنے والے شہر کے پوش علاقوں میں وسیع و عریض کوٹھیوں اور بنگلوں کو مسکن بنائے بیٹھے ہیں۔

ذرا پتا تو کریں کہ سائیکل پر پھیری لگانے والوں نے کون کون سے پھیرے نہیں لگائے؟ جن کے پاس ڈھنگ کے جوتے نہیں ہوتے تھے وہ آج لگژری گاڑیوں کے قافلوں میں کس شان سے نکلتے ہیں۔ سرکاری وسائل کو استحکامِ اقتدار کے لیے کب نہیں بھنبھوڑا گیا؟ ہارس ٹریڈنگ سے لے کر خاندانی ٹریڈ تک سرکاری ادارے ہی شکار گاہ بنے رہے۔ اسی طرح قلیل مدتی ایس آر او جاری کرکے مطلوبہ مقاصد پورے ہونے کے بعد کس طرح واپس لے لیے جاتے تھے۔ برف بیچنے والے ہوں یا پراندے‘ ڈپو پر آٹا تولنے والے ہوں یا مسواکیں بیچنے والے‘ ناجائز فروشی کرنے والے ہوں یا چور بازاری‘ سبھی کا شمار اب اس ملک کی اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ کوئی تو ان سے پوچھے کہ تمہارے پاس کون سا الہ دین کا چراغ ہے؟ خزانے کی کون سی دیگ تمہاری کٹیا سے نکلی تھی؟ تمہارے ہاں کون سا تیل نکلا تھا؟ یہ عالی شان طرزِ زندگی‘ یہ ٹھاٹ باٹھ‘ یہ کاریں کوٹھیاں‘ کنیزیں ملازم‘ فارم ہائوسز پر ہونے والی پی آر پارٹیاں‘ یہ سب کہاں سے آیا؟ آج کے دور میں بھی ہزاروں متمول اور نامی گرامی شرفا قطعی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے کہ ان کی غیرمعمولی اور حیرت انگیز معاشی ترقی کا رازکیا ہے؟ جائیدادوں کی خریدوفروخت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ یہ لوگ اپنے بااعتماد دوستوں‘ عزیزوں اور ملازموں کے نام پر جائیدادیں بناکر حکومتی اداروں کی پکڑ اور لوگوں کی نظروں سے محفوظ رہے۔

اگر نواز شریف اور اُن کے خاندان والوں سے منی ٹریل طلب کی جا سکتی ہے اور آصف علی زرداری کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکتا ہے‘ تو معاشرے میں چلتے پھرتے ہزاروں‘ لاکھوں ننھے منے شریفوں اور زرداریوں سے بھی حساب لینا عین منطقی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتسابی ادارے کو سیاسی کیسوں کی بھول بھلیوں میں الجھانے کی بجائے اس کی سربراہی میں وسیع اختیاراتی ٹاسک فورس تشکیل دی جائے‘ جس میں ایف بی آر‘ ایف آئی اے اور محکمہ مال کو بھی شامل کیا جائے‘ جو بلاامتیاز کارروائی کرکے ٹیکس چوری سے لے کر تجوریوں‘ بے نامی اکائونٹس اور پوشیدہ اربوں روپے کے کالے دھن کا سراغ لگائے اور یہ رقوم برآمد کرے۔ حکومت کے پاس وسائل موجود ہیں‘ کمی ہے تو صرف ویژن اور اہداف کے تعین کی۔ اس طرح پکڑا جانے والا کالادھن قومی خزانے کا حصہ بن سکتا ہے اور یوں ہماری قومی معیشت‘ جو اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے‘ کو نہ صرف سنبھالا مل سکتا ہے بلکہ اُسے مستحکم بھی کیا جا سکتا ہے۔ چلتے چلتے ایک بار پھر عرض کرتا چلوں کہ ان کھرب پتی اشرافیہ کے پاس 80ء کی دہائی سے پہلے کا نہ تو حساب ہے اور نہ ہی کوئی منی ٹریل‘ نہ ہی اس شاہانہ زندگی کا کوئی جواب ہے نہ ہی جواز۔ وسیع تر قومی مفاد کے لیے غیر سیاسی فیصلوں کا آغاز تو کرکے دیکھیں خیر ہی خیر ہوگی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.