کورونا وائرس کا خدشہ :ملک کا واحد ضلع جہاں اگلے 10 روز کیلئے مکمل لاک ڈاون نافذ کر دیا گیا

لاڑکانہ (ویب ڈیسک) ملک کا واحد ضلع جہاں اگلے 10 روز کیلئے مکمل لاک ڈاون نافذ کر دیا گیا، سندھ کے شہر لاڑکانہ میں ضلعی انتظامیہ نے سخت لاک ڈاون کے تحت مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند کروا دیے، صرف کریانہ اور میڈیکل اسٹورز کھولنے کی اجازت ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں کرونا وائرس

پھیلاو کے باعث کئی شہروں میں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔جبکہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں مکمل لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ لاڑکانہ میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاو کے بعد صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے شہر میں مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ لاڑکانہ شہر میں اگلے 10 دن کیلئے مکمل لاک ڈاون نافذ کر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔شہر کی تمام مارکیٹوں اور کاروباری مراکز کو بند کر دیا گیا ہے۔شہر میں صرف کریانہ اور میڈیکل اسٹور کو کھلنے کی اجازت ہوگی۔ کریانہ اور میڈیکل اسٹور شام 7 بجے تک کھلے رہیں گے۔ اس دوران لوگوں کو صرف انتہائی ضرورت کے تحت گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ ملک کے 20 خطرناک شہروں کی نشاندہی کر کے وہاں سمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شامل ہیں۔ جبکہ واضح رہے کہ ملک میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 1 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اموات کی کل تعداد 3 ہزار 200 سے زائد ہے۔ صوبہ پنجاب کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کرونا کیسز کی تعداد 60 ہزار سے زائد اور کل اموات کی تعداد 1 ہزار سے زائد ہے. جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف خاندان کے اثاثوں کی لاکھوں سے اربوں میں منتقلی سے متعلق مزید انکشافات سامنے آگئے، نیب نے بتایا 2009 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثے ایک ارب کے قریب تھے جو 2018 میں بڑھ کر 7ارب سے تجاو ز کرگئے۔تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ، شہباز شریف خاندان کے اثاثوں سے متعلق نیب کے مزید انکشافات سامنے آگئے ہیں، رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شہباز خاندان کے اثاثے بنانے کے ذرائع نامعلوم، جعلی اور خیالی ہیں۔نیب رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 میں شہباز شریف خاندان کے کل اثاثے 20لاکھ سے زائد تھے، جبکہ 1997 میں وزیراعلیٰ بننے کے بعد شہباز خاندان کے اثاثے3 کروڑ 50لاکھ تک پہنچ گئے۔نیب کا کہنا ہے کہ سن 2003 میں شہبازشریف اور ان کے بیٹوں نے پہلی مرتبہ الگ الگ اثاثوں کی تفصیل جمع کرائی، جس کے مطابق شہباز شریف کی فیملی کے اثاثے 4کروڑ سے زائد ہوگئے۔نیب رپورٹ کے مطابق 2004 سے 2008تک حمزہ شہباز کے علاہ خاندان کے کسی فرد نے تفصیل جمع نہیں کرائی، 2009 میں شہباز شریف کو ان کی بیویوں اور بچوں نے بیرون ملک سے رقوم ٹرانسفرکیں تو شہباز شریف خاندان کے اثاثے ایک ارب کے قریب پہنچ گئے جبکہ 2018 میں شہباز شریف خاندان کے اثاثوں کی مالیت 7ارب سے تجاوز کرگئی۔جبکہ

Sharing is caring!

Comments are closed.