پی آے اے کی سابق سربراہ کی حسین و جمیل محبوبہ ائیرہوسٹس اور ایان علی ۔۔۔۔ چند مزید پول کھول دینے والے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار منیر احمد بلوچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ائیر مارشل نور خان اس قوم کا وہ ستارہ تھا جو ائیر فورس‘ پی آئی اے‘ سکوائش‘ ہاکی اور کرکٹ کے ہر عہدے پر جہاں جہاں بھی براجمان ہوا پاکستان کے نام اور مقام کو بلندیوں تک لے گیا ۔

بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں کے سیاح اور ٹریولر اپنے اپنے ملکوں کی ائیر لائنز پر پی آئی اے کو ترجیح دیتے تھے۔ نور خان مرحوم کی وطن سے محبت اور مر مٹنے کا جذبہ اس ایک واقعہ سے ہی سمجھ لیں کہ 20 جنوری1978ء کو پی آئی اے کا طیارہ جس میں22 مسافر سوار تھے کراچی میں ہائی جیک کر لیا گیا اور ہائی جیکر نے پائلٹ کو حکم دیا کہ جہاز کو بھارت لے جایا جائے ۔ائیر مارشل نورخان ہائی جیکر سے بات کرنے کیلئے جہاز کے اندر اکیلے ہی خالی ہاتھ جا پہنچے اور اسے باتوں میں مصروف رکھتے ہوئے اچانک اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے کیلئے اس پر جھپٹے‘اس دوران ہائی جیکر نے شوٹ کرکے انہیں زخمی کردیا لیکن اس کے با وجود ہائی جیکر پر قابو پاتے ہوئے جہاز کے بائیس مسافروں کی زندگیاں محفوظ بنا نے میں کامیاب رہے۔آج بلاول بھٹو فرماتے ہیں کہ پی آئی اے کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا ‘ان کی اس بات سے مکمل اتفاق کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ پی آئی اے کی تباہی کا منظر آپ کو بتا ہی دیا ہے‘ اور تباہی و بربادی کی ایک نہیں کئی ہزار داستانیں ہیں۔ یہی گھن اس مستحکم اور اچھی شہرت کی حامل ائیر لائنز کو کھا گیا اور آج یہ حالت ہے کہ پی آئی اے پر پابندیاں لگ رہیں ہیں جبکہ وہ ائیر لائنز جنہیں پی آئی اے نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا ہے آج وہ پی آئی اے کی جگہ اس ریجن کا بزنس سنبھال رہی ہیں۔

پی آئی اے کے ساتھ جو ہوا اس پر کاش کوئی ایسا کمیشن بنے جو اوپن کورٹ میں ہر ذمہ دار کو قوم کے سامنے لاکر بتائے کہ پی آئی اے کو کس کس نے لوٹا اور بے دردی سے تباہ کیا ۔ 1972ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کے معروف صنعت کار رفیق سہگل کو پی آئی اے کا چیئر مین مقرر کیا تھا جن کا جلد ہی ایک حسین و جمیل ائیر ہوسٹس سے ایسا معاشقہ شروع ہو ا کہ رفیق سہگل کی توجہ پی آئی اے سے ہٹ کر ائیر ہوسٹس پر مرکوز ہو کر ہو گئی اور اس ائیر ہوسٹس کی مہربانی سے انتظامیہ کمزور اور پی آئی اے کی یونینز طاقتور بھوت کی شکل میں تمام معاملات پر حاوی ہو گئیں۔جب معاملات بے قابو ہو گئے تورفیق سہگل کو فارغ کر دیا گیا ۔فہرست لمبی ہے آصف زرداری کا اعجاز ہارون کو ایم ڈی مقرر کرنا‘ ایان علی کو شاہی پروٹوکول دیا جانا‘ فہرست بہت لمبی ہے‘ کاش کوئی اﷲ کا بندہ اٹھے اور ان سب کی شفاف انکوائریاں کرا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے؟موجودہ حکومت کی جانب سے بارہا اداروں کی اصلاحات کے دعوے کئے گئے ہیں‘ ابھی چند روز قبل قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اداروں کی اصلاحات کرنا چاہتے ہیں‘ اور قومی اداروں میں اصلاحات کی بات کی جائے تو سب سے پہلے ذہن پی آئی اے اور سٹیل ملز کی طرف جاتا ہے۔ یہ اہم قومی ملکیتی ادارے عرصہ ہوا ‘ سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ انہیں منصوبے سے تباہ کیا گیا ہے ‘ ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ سٹیل کے اس کارخانے اور ایشیا کی چوٹی کی ائیر لائنز کا یہ حال ہوتا۔

Sharing is caring!

Comments are closed.