بریکنگ نیوز:مریم نواز اپنے ہی گھر میں قیدی ۔۔۔۔۔؟ جاتی امراٗ میں کیا ہو ر ہا ہے ؟ حیران کن اطلاعات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی جاوید لطیف نے کہاہے کہ مریم نواز کو اپنے گھر میں یرغمال بنالیا گیا ہے ،کچھ لوگوں نے کہا کہ چودھری نثار ٹھیک تھا،اس وقت ن لیگ میں چودھری نثار کی باقیات موجودہیں جو پاکستان کے اندر ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان“میں گفتگو کرتے ہوئے

جاوید لطیف نے کہا کہ میں پوری ذمہ داری سے بات کررہا ہوں کہ نوازشریف کی زندگی سے زیادہ نہ مریم نواز کوکوئی چیز عزیز ہے اورنہ ہم کوعزیز ہے، مریم نواز متحرک اور سرگرم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو کھیل کھیلا جارہا ہے ، کچھ لوگوں نے کہا کہ چودھری نثار ٹھیک تھا،اس وقت ن لیگ میں چودھری نثار کی باقیات موجودہیں جو پاکستان کے اندر ہیں۔جاوید لطیف کا کہناتھا کہ اس وقت پارٹی کے لوگ جس صورتحال سے دوچار ہیں تواس لئے ضروری تھا کہ یہاں جولوگ تھے وہ پارٹی کے صدر کو تمام حالات سے آگاہ کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مریم نواز شریف کو اپنے گھر میں یرغمال بنالیا گیا ہے ، وہ نواز شریف کی صحت کی وجہ سے خاموش ہیں ۔ان کا کسی بھی پارٹی کے عہدیدار سے رابطہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے خط کا مقصد تھا کہ اپوزیشن سے مشاورت کرکے فیصلہ کیاجائے ، لندن جانے سے پہلے بل کی حمایت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے آئی ٹی خالد مقبول صدیقی کے وزارت چھوڑنے کے اعلان سے پاکستانی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے جبکہ حکومتی وزیروں کی نیندیں بھی اڑ چکی ہیں ،گوکہ وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ قومی موومنٹ کو منانے کے لئے اسد عمر اور گورنر سندھ عمران اسماعیل کو ٹاسک سونپ دیا ہے جبکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان،فواد چوہدری،شفقت محمود اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بڑے پر امید ہیں کہ ’بحران‘ٹل جائے گا اور ایک بار پھر ایم کیو ایم پاکستان حکومت کے ساتھ مل کر ’’پرانی تنخواہ ‘‘ پر کام کرنے کے لئے راضی ہو جائے گی تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر متحدہ قومی موومنٹ ضد پر اڑی رہی تو حکومت کے لئے ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔ وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت چھوٹی بڑی ’’بیساکھیوں‘‘ کےسہارے کھڑی ہے،حکمران جماعت قومی اسمبلی میں156ذاتی نشستوں کےساتھ اتحادی جماعتوں کے سہارے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی ،اتحادی جماعتوں کوساتھ ملانے کےبعدوزیراعظم عمران خان کی حکومت183سیٹوں کےساتھ اقتدارپر براجمان ہےجبکہ اپوزیشن جماعتوں کے پاس 158 نشستیں موجود ہیں،گوکہ ایم کیو ایم کی علیحدگی کے باوجود فوری طور پر تحریک انصاف کی حکومت کو کوئی خطرہ دکھائی نہیں دے رہا تاہم ایم کیو ایم پاکستان اپنی ساتھ سیٹوں کے ساتھ حکومت سے علیحدہ ہوتی ہے تو عمران خان کی حکومت کو ایک بڑادھچکا لگے گا اور اپوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.