اکثر ہم علمائے کرام سے کچھ ایسے مسائل میں بہت دیر سے معلومات کرتے ہیں

اکثر ہم علمائے کرام سے کچھ ایسے مسائل میں بہت دیر سے معلومات کرتے ہیں۔ جب ہمارے سر سے پانی گزر چکا ہوتا ہے۔ دوستوں اج ہم اپ کو بہت ہی سبق آموز واقعہ سناتے ہے۔ ایک با پ نے اپنے بیٹے سے کہاـ اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ بیٹا حیران ہوا۔کیو نکہ میاں بیوی بچوں سمیت ہنسی خوشی کی

زندگی گزار رہے تھے۔ بیوی میاں کی خدمت کرتی۔ ہر حا لت میں صبرو شکر سے رہتی۔ مگر والد بضد تھے ۔ بیوی کو طلاق دو۔ اور دلیل یہ دیتے ابراہیم ؑنے اپنے بیٹے کو طلا ق دینے کا کہاتو ان کے بیٹے نے طلاق دے د ی۔ بیٹابڑا پر یشان ہوا۔ ایک طر ف با پ کا حکم دوسری طر ف بیوی بچوں کے مستقبل کا سوال۔ اگر باپ کا حکممانتا ہے تو بیوی بچوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ اگر حکم کے خلاف کرتاہے تو ﷲ نارا ض ہوتا ہے۔نوجوان نے یہ سن رکھا تھا۔مفتی کے پا س ہر مسئلے کا حل موجود ہوتا ہے۔اس نے سو چا موقع اچھا ہے۔چلو اس بات کو آزماتے ہیں۔وہ خوف اور امید کے جذ بات لے کر ۔مفتی صا حب کے پاس پہنچا۔۔مفتی صا حب نے نو جوا ن کو گھبرایا ہوا دیکھ کر پوچھا کیا با ت ہے؟آپ کچھ پر یشان نظر آرہے ہیں؟ نو جوا ن کو ان کے لہجے میں ہمدردی نظر آ ر ہی تھی۔ نو جوا ن نے سا را مسئلہ مفتی صا حب کو بیا ن کیا۔ سا را مسئلہ سن کر مفتی صا حب بو لے کچھ اور آپ کہنا چا ہیں گے۔ نو جوا ن بو لا ہاں ایک اہم بات یاد آئی میر ی بیوی میرے با پ کے لئے حقہ نہیں تیار کر تی۔اب آپ بتاآئیے میرے لئے کیا حکم ہے۔مفتی صا حب بولے اگر مسئلہ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بیا ن کیا ہے۔اگر آپ کے والد صا حب ابراہیم ؑ کی طرح اور آپ اسماعیلؑ طر ح ہیں تو طلاق دے دیں ورنہ نہ دیں۔

Sharing is caring!

اپنا تبصرہ بھیجیں