’’ مجھے کسی بھی صوبے کی گورنر شپ اور وفاق میں یہ عہدہ دیں ۔۔۔‘‘ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا مؤخر کرنے کے لیے اپنے نکات پیش کر دیے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا اہم فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اچانک اعلان کیا کہ تمام کارکنان 27 اکتوبر کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونگے، اس کے علاوہ 27 اکتوبر کو جو جلوس ہونگے وہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہی منایا جائے گا، دوسری طرف اب بڑی اہم خبر کے مطابق


مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجھے 3 وزارتیں، صوبے کی گورنر شپ اور اپنے لیے وفاقی مشیر برائے مذہبی امور کا عہدہ لینے کا کہا ہے، اگر حکومت انکے مطالبات مان لیتی ہے تو مولانا اپنا دھرنا مؤخر کر دیں گے، ایسے میں اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ڈٹ گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہنے والے اور معروف صھافی جان اچکزئی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام چھوڑا ہے جس میں انکا کہنا تھا کہ ’’اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم عمران خان مولانا فضل الرحمن کا کوئی بھی مطالبہ نہیں مانیں گے،کہ مولانا فضل الرحمن نے 3 وزارتیں،گورنرشپ اور اپنے لیے وفاقی مشیر برائے مذہبی امور کا عہدہ دینے کا مطالبہ کیا ہے،دھرنے سے متعلق حکمت عملی 20 تاریخ کے بعد طے کی جائے گی‘‘۔دوسری جانب گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اچانک اعلان کیا کہ تمام کارکنان 27 اکتوبر کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو ایک ساتھ اسلام آباد میں داخل ہونگے، اس کے علاوہ 27 اکتوبر کو جو جلوس ہونگے وہ کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر ہی منایا جائے گا، لیکن مولانا فضل الرحمان نے اچانک دھرنے کی تاریخ تبدیل کیوں کی اس کو لے کر کافی سوالات اُٹھائے جارہے ہیں، یہ سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کی تاریخ کو تبدیلی کو لے کر مولانا فضل الرحمان نے شاہ محمود قریشی کی بات مان لی ہے یا پھر اسکے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ کیونکہ جیسے ہی مولانا کی جانب سے جب یہ اعلان کیا گیا تو شاہ محمود قریشی کی جانب سے مولانا سے یہ درخواست کی گئی کہ مولانا اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کریں ، کیونکہ 27 اکتوبر ہی وہ تاریخ ہے جس تاریخ کو بھارت نے مقبوضۃ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا اور اگر مولانا اس تاریخ کو احتجاج یا دھرنا دیتے ہیں تو پوری دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ اس دن تو کشمیری یوم سیاہ مناتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم کشمیریوں کی آواز بنے نہ کہ اپنے الگ الگ دھرنے دے کر بیٹھ جائیں ، مولانا فضل الرحمان کی حب الوطنی اور کشمیر کے ساتھ محبت پر ششک نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر مولونا نے اپنے دھرنے کی تاریخ نہ بدلی تو پھر کشمیر کاز کو بہت برے طریقے سے نقصان پہنچے گا۔ تو جیسے ہی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے دھرنے اور احتجاج کی تاریخوں کی تبدیلی کا اعلان کیا گیا تو ملک میں نئی بحث شروع ہوگئی کہ کیا مولانا نے شاہ محمود قریشی کی بات کو مانتے ہوئے یہ قدم اُٹھایا ہے، کیونکہ اس سے پہلے یہ خبریں بھی گردش میں تھیں کہ شاہ محمود قریشی حکومت میں لابنگ کر رہے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.