اہم ترین ’ کنٹرول‘ عمران خان سے واپس لے لیا گیا! اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں دراڑ کی خبر

لاہور (نیوز ڈیسک ) پی ڈی ایم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں دراڑ ڈالنے میں کامیاب ہوگئی، سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے

کہا کہ نیب کا کنٹرول بھی وزیراعظم کے ہاتھ سے ختم ہوگیا ، وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان پیدا خلش ختم ہونے میں وقت لگے گا، فی الحال ایک پیج پر نہیں رہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے

تجزیے میں کہا کہ مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ کی شخصیت سے ملاقات کی، ایسی خبروں پر توجہ نہیں دینی چاہیے ہاں یہ ایک خبر ہے کہ وزراء نے اسٹیبلشمنٹ کی اعلیٰ شخصیت سے ملاقات کی، ان کو کہا گیا آپ وزیراعظم کو مشورہ دیں کہ وہ معیشت ،مہنگائی ، کارکردگی پر توجہ دیں، نااہل لوگوں کو کابینہ سے فارغ کریں۔یہ وزراء طاقتور ہیں، یہ جہلم، کراچی، پنڈی سے وزراء ہیں، یہی وجہ ہے وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم پر

بیان بازی چھوڑ دیں۔پی ڈی ایم نے جو کام کرنا تھا وہ کردیا ہے، دوشہروں کے درمیان ایک دراڑ اور خلش پیدا کرگئی ہے۔ اب یہ خلش کیسے ختم ہوگی یہ بعد کی بات ہے، نیب کا کنٹرول بھی وزیراعظم کے ہاتھ سے ختم ہوگیا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ وزیراعظم 3تاریخ کی رات کو اسمبلیاں توڑنے کا سوچ رہے تھے، وہ خود گاڑی ڈرائیو کرکے اسپیکر اسد قیصر کے گھر گئے۔وہاں جاکر انہوں نے کہا میں اسمبلیاں توڑ رہا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم میں مختلف

جماعتیں ہیں، ان کے اپنے ایجنڈے ہیں ، وہ ایک چیز پر اکٹھی ہیں کہ عمران خان کو ہٹا دیا جائے اب ان میں پیپلزپارٹی سسٹم کا حصہ ہے،حکومت کی طرف جھکاؤ ہے، پی ڈی ایم کا ایک حصہ الگ ہوگیا لیکن الائنس موجود بھی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈی ایم کے خلاف بیانات نہ دیں، گورننس پر توجہ دیں۔لیکن بیان تو آئے گا۔ ترجمانوں کا کام ہی بیان بازی ہے۔ حکومت نے اچھے اقدامات کیے بھی کئے ہیں لیکن وزیراعظم کی ٹیم سامنے لانے میں ناکام رہی۔وزیرخزانہ کا ابھی تک سمجھ نہیں آرہا کون ہوں گے، شوکت ترین نے کہا کہ معیشت کی کوئی سمت نہیں ہے، نیب کے کیسز ختم کیے جائیں، عمران خان ذہن میں رکھیں کہ شوکت ترین بڑے زبردست ماہرین معاشیات ہیں،لیکن اومنی گروپ کے انور مجید کے قریبی رشتہ دار ہیں، شوکت ترین معیشت کے بارے میں جو بات کررہے ہیں وہ بڑی زبردست بات کررہے ہیں۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *