نئی تحقیق۔۔!! کورونا وائرس فیس ماسک پرکتنے دن رہ سکتا ہے اور کیا چیز اسے مار سکتی ہے؟ ماہرین کی رپورٹ نے دنیا کو دنگ کر دیا

ہانگ کانگ (ویب ڈیسک) کورونا وائرس پر کی جانے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ مہلک وائرس اسٹیل اور پلاسٹ کی تہوں پر چار دن جب کہ فیس ماسک پر ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ہانگ کانگ میں کی گئی تحقیق میں

بتایا گیا ہے کہ کووِڈ 19 یعنی کورونا وائرس پلاسٹ اور اسٹین لیس اسٹیل پر چار دن جب کہ فیس ماسک کی پہلی تہہ پر یہ ایک ہفتے تک موجود رہ سکتا ہے۔تاہم تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس وائرس کو گھروں میں استعمال کیے جانے والے جراثیم کش محلول یعنی بلیچ یا صابن اور پانی سے دھو کر مارا جا سکتا ہے۔محققین کے مطابق SARS-COV2 سازگار ماحول میں بہت زیادہ متحرک رہتا ہے تاہم عام استعمال کے جراثیم کش محلول اسے باآسانی ختم کر سکتے ہیں۔تحقیق کے دوران محققین نے اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ یہ ایک کمرے کے درجہ حرارت میں مختلف تہوں پر کتنی دیر تک متحرک رہتا ہے۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ وائرس پرنٹنگ پیپرز اور ٹشو پر تین گھنٹے سے بھی کم عرصےتک رہا جب کہ لکڑی اور کپڑے پر یہ دوسرے دن ختم ہو گیا تھا۔شیشے اور بینک نوٹوں پر دوسرے بھی اس کی موجودگی دیکھی گئی لیکن چوتھے تک اس وائرس کی ان پر موجودگی نہیں ملی تاہم اسٹیل اور پلاسٹک پر یہ چار سے سات دن تک موجود رہا۔محققین کا کہنا ہے کہ فیس ماسک کی پہلی تہہ پر اس کی موجود سات دن کے بعد بھی دیکھی گئی اور یہ اس وقت بھی متحرک تھا۔تحقیق میں شامل ایک محقق ملک پائرس کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ سرجیکل ماسک پہنتے ہیں تو اس کی بیرونی تہہ پر ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ اس سے آپ اپنے ہاتھوں پر وائرس کا منتقل کر سکتے ہیں جو کہ اگر آنکھ پر لگیں گے تو آپ متاثر ہو جائیں گے۔محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تقریباً تمام ہی تہوں پر اس وائرس کے ارتکاز میں فوری طور پر کمی دیکھی گئی۔یاد رہے کہ اس قبل نیچر جرنل میں شائع امریکی تحقیق میں بھی یہ کہا گیا تھا کہ کورونا وائرس مختلف تہوں پر کئی دن تک متحرک رہ سکتا ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.