پاکستان میں پیدا ہونے والی لڑکی کے اعلان نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

بغداد (ویب ڈیسک) سالانہ دو لاکھ ڈالر لے لیں اور ہمارے لیے کام کریں امریکہ کی ایک بڑی لا فرم کی جانب سے ریض گارڈی کو پیش کی گئی اور انھوں نے اسے ٹھکرا دیا۔ اس لیے کہ انھیں اپنے لوگوں کو انصاف دلانے کے لیے لڑنا تھا ۔ ریض گارڈی کہتی ہیں کہ

’بہت سارے پیسوں اور بڑی بڑی نوکریوں کے سمندر میں مجھے اپنے آپ کو بار بار یہ احساس دلانا پڑتا تھا کہ میری زندگی کا مقصد ایک پرآسائش زندگی سے کچھ زیادہ ہے۔‘’میں لا سکول کسی وجہ سے گئی تھی۔ میں قانون کی طاقت سمجھنا چاہتی تھی تاکہ میں ایک مثبت تبدیلی لا سکوں۔‘وہ کہتی ہیں کہ ’میرے والدین وہاں سے بھاگے، مجھے دنیا کے دوسرے کونے میں لے گئے، اور پھر بھی میں وہاں پہنچ گئی ہوں جہاں سے سب شروع ہوا تھا۔‘ریض 1991 میں پاکستان میں ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین عراقی کرد ہیں اور وہ اپنے رشتے داروں، دوستوں، اور ہمسایوں کی کہانیاں سن سن کر بڑی ہوئیں کہ کیسے انھیں صدام حسین دور میں ختم کیا گیا تھا۔جب وہ سات سال کی تھیں تو ان کی فیملی نیوزی لینڈ منتقل ہوگئی تھی۔ انھوں نے تعلیم میں بہترین کارکردگی دیکھائی اور گذشتہ سال وہ ہارورڈ لا سکول سے فارغ التحصیل ہوئی ہیں۔اس وقت ریض شمالی عراق سے شواہد اور لوگوں کے بیانات جمع کر رہی ہیں جہاں پر 2014 میں یہ زیادتیاں ڈھائے گئے تھے۔ریض کہتی ہیں کہ ’یزیدی خواتین بتا سکتی ہیں کہ انکے ساتھ کیا ہوا . وہ ایک منظم گروہ تھا اور ریض کے خیال میں یزیدیوں کے خلاف زیادتیوں میں ایک واضح ربط ہے۔ریض کہتی ہیں کہ ’انصاف میں کئی سال لگ جائیں گے۔ شواہد جمع کرنا ایک طویل عمل ہے۔ مگر کہیں کہیں کامیابی ہوئی ہے۔ مجھے اس سے امید ملتی ہے۔‘ریض صدام حسین کے ہاتھوں اپنے خاندان کوستائے جانے کے باوجود پرامید ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.