نواز شریف کو جب پاکستان میں دوبارہ ’ مارشل لاء ‘ کے خطرات سے آگاہ کیا گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ جب نواز شریف سے راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی بات کی گئی تو انہوں نے شہباز شریف اور چوہدری نثار کو واضح الفاظ میں کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے، آپ دونوں میں سے کوئی بھی وزیر اعظم بننا چاہتا ہے تو بن جائے لیکن


راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ ترین کالم میں انصار عباسی لکھتے ہیں کہ ’’ اپنے وزارت عظمیٰ کے دوران نواز شریف لندن میں اپنی ہارٹ سرجری کے لیے موجود تھے، تو وہی شہباز شریف اور چہودری نثار علی خان ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور ان سے ملاقات کی، اس وقت پاکستان کہ سپہ سالار جنرل راحیل شریف تھے، اسی ملاقات میں چوہدری نثار علی خان کی جانب سے نواز شریف سے درخواست کی گئی راحیل شریف کی مدت ملازمت میں روسیع کر دی جائے ورنہ پاکستان میں مارشل لاء کے خطرات موجود ہیں، شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے چہروں پر پریشانی صاف عیاں تھی، لیکن نواز شریف ہارٹ سرجری کے باوجود آرام کر رہے تھےاور مطمئن تھے، انہوں نے واضح الفاظ میں انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ مدت ملازمت میں توسیع نہیں ہوسکتی ، جب چوہدری نثار علی خان کی جانب سے اس خطرے کا اظہار کیا گیا کہ اگر پاکستان میں مارش لاء لگ گیا تو کیا ہوگا؟ تو نواز شریف نے برملا کہا کہ میں پھر بھی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کرونگا، جب بار بار اصرار کیا گیا تو نواز شریف نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا یہ ممکن نہیں، ایسا کریں آپ دونوں میں سے کوئی بھی وزیر اعظم بن جائے، جو وزیر اعظم بن جائے گا وہ ایکسٹینشن دے لے، میں نہیں دونگا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شہباز شریف اور نواز شریف میں اختلاف رائے موجود ہے لیکن اختلافات کے باجود شہباز شریف اپنے بائی کو بائی پاس نہیں کریں گے ‘‘۔

Sharing is caring!

Comments are closed.