دنیا بھر میں کورونا متاثرین کے لیے بڑی خوشخبری ۔۔۔۔۔کورونا وائرس سے زندگیا ں بچانے والی پہلی دوائی سامنے آگئی

لندن (ویب ڈیسک )انتہائی سستی اور با آسانی دستیاب دوائی ”dexamethasone“کورونا وائرس سے بری طرح متاثر افراد کی جان بچا سکتی ہے ۔برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے سٹیرائڈسے علاج نے اہم کام کیا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوائی کورونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹر پر منتقل

ہونے والے مریضوں کی موت کے خطرے کو ایک تہائی فیصد کم کر دیتی ہے ۔یہ دوائی کورونا وائرس کے بیماری بگڑنے کے باعث آکسیجن لینے والے ہر پانچویں مریض کو ٹھیک کر رہی ہے ۔ریسرچرز کا اندازہ ہے کہ اگر کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے آغاز میں یہ دوائی برطانیہ میں مریضوں کو ٹھیک کرنے کے لیے دی جاتی توپانچ ہزار زندگیاں بچائی جا سکتی تھیں ۔اس دوائی کے کم قیمت ہونے کی وجہ سے یہ ان غریب ممالک میں بھی با آسانی دستیاب ہو سکتی ہے جہاں لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہیں ۔”dexamethasone “انجیکشن میں بھی دیا جا سکتا ہے جبکہ روز ایک ٹیبلٹ بھی کھائی جا سکتی ہے ۔یہ سٹرائڈ جسم میں اس مادے کو نکلنے سے روکتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہونے جیسی بری علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔یہ سٹرائڈ 1957میں دریافت ہوا تھا جو کہ الرجی سمیت مختلف قسم کی بیماریوں کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ہائیکورٹ نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے کھولنے کی درخواست مسترد کردی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پرائیویٹ سکولوں سے منسلک لوگوں کی نوکریاں ختم ہو رہی ہیں، حکومتی پالیسی سے لوگوں کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اس وقت سب سے بڑا بنیادی حق انسانی زندگی بچانا ہے، کیا باقی ممالک میں سکول کھولے گئے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں بھی سکول نہیں کھلے، وبا کے ساتھ کیسے نمٹنا ہے یہ حکومت کا کام ہے، ہم نے تو عدالتیں بھی حکومتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر کھولی ہیں، اس حوالے سے عدالت مداخلت نہیں کرے گی، یہ ایگزیکٹو کا کام ہے اور وہی اس کو دیکھے۔جسٹس اطہر من اللہ نے تعلیمی ادارے کھولنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پرائیویٹ سکولز حکومتی اتھارٹی پیرا کو بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.