بریکنگ نیوز!! مولانا نے دوسری شادی کر لی ،لڑکی کون ہے ؟جانیے اس خبر میں

کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم نے پولیس میں درخواست دائر کی تھی۔ چترال پولیس نے درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس کیس کے انکوائری آفیسر ایڈیشنل ایس ایچ او رحمت عظیم کا کہنا ہے کہ اس کیس پر تفتیش شروع ہو چکی ہے۔لڑکی کے خاندان والوں کا تعلق

چترال کے قصبے دروش سے ہے، لیکن اس وقت یہ لوگ ضلع سے باہر ہیں۔جب چترال آئیں گے تو کیس میں پیش رفت ہو گی۔ سکول ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی تاریخ پیدائش ستمبر 2006 ہے اس طرح اس کی عمر 14 برس بنتی ہے۔ اس بارے میں انور علی خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملکی قانون کے مطابق شادی کے لیے لڑکی کی کم از کم عمر کی حد 16 سال مقرر ہے، اس سے کم عمر بچی سے شادی جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ 16 سال سے کم عمر کے بچی کے شادی میں اگر والدین یا سرپرست کی رضامندی شامل ہو، تو وہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہوں گے اور اس کے علاوہ نکاح خواں اور گواہ بھی جرم میں معاون سمجھے جائیں گے۔تنطیم کے صدر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ یہ کیس سوشل میڈیا پر آنے کے بعد ہم تفتیش کے لیے چترال پولیس کو باقاعدہ طور پر درخواست دی ہے۔تنظیم کے سربراہ کا کہنا ہے اس کیس میں چترال کی مقامی تنظیم اور پولیس دونوں کو بائی پاس کیا گیا ہے۔ لڑکی والد نے ہمیں لکھ کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی شادی چترال سے باہر نہیں کرائیں گے، اگر ایسا کچھ ہوا تو پولیس اور تنظیم کو اعتماد میں لیں گے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اور تحریک تحفظ حقوق چترال کے چیئرمین پیر مختار نبی کا کہنا تھا کہ اس کیس میں قانونی ماہرین سے مشاورت جاری ہے اور وہ اس کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کریں گے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔ ڈی پی او لوئر چترال سونیا شمروز خان کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے ہمیں سٹامپ پیپر پر لکھ کر دیا تھا کہ وہ ایسا کوئی کام نہیں کرے گا اور اگر اپنی بیٹی کی شادی چترال سے باہر کرانے سے پہلے لوکل پولیس کو اعتماد میں لے گا۔ ہماری اطلاعات کے مطابق لڑکی کا نکاح چترال سے باہر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی اس کیس میں تفتیش جاری ہے۔اس کیس کے سلسلے میں مولانا صلاح الدین ایوبی سے موقف لینے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں مل سکی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *